گلگت بلتستان ہمیشہ سے رواداری، باہمی احترام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال رہا ہے۔ یہاں مختلف مکاتبِ فکر کے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون سے زندگی گزارتے آئے ہیں۔ مگر حالیہ عرصے میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آ رہا ہے مذہبی مقدسات کی توہین کے الزامات پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمات کا اندراج، اور اس کا سب سے بڑا شکار ہمارے نوجوان اور طالب علم بن رہے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا مقصد ملک کو دہشت گردی جیسے سنگین خطرات سے محفوظ رکھنا تھا۔ یہ قانون ان عناصر کے خلاف بنایا گیا تھا جو ریاست اور شہریوں کی جان و مال کے لیے حقیقی خطرہ ہوں۔ مگر افسوس کہ اب یہی قانون سوشل میڈیا پر ہونے والی تلخ گفتگو، غلط فہمیوں یا جذباتی ردِعمل کے نتیجے میں نوجوانوں پر لاگو کیا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان کے مختلف تھانوں میں مذہبی توہین کے الزامات پر ایف آئی آرز کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہمارا معاشرہ عدم برداشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اکثر ایسے واقعات میں ملوث نوجوان طالب علم ہوتے ہیں جو نادانی، جذبات یا لاعلمی میں کوئی پوسٹ یا تبصرہ کر بیٹھتے ہیں، اور پھر اچانک خود کو دہشت گردی کے مقدمے میں نامزد پاتے ہیں۔
ایک بار اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج ہو جائے تو یہ صرف ایک قانونی کارروائی نہیں رہتی بلکہ زندگی بھر کا داغ بن جاتی ہے۔ ایسے نوجوانوں کا تعلیمی مستقبل تباہ ہو جاتا ہے؛ کالج اور یونیورسٹیوں میں داخلے مشکل ہو جاتے ہیں، اسکالرشپس کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور ملازمت کے مواقع تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ سماجی بدنامی الگ، اور عدالتوں، تھانوں اور جیلوں کے چکر ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طالب علم جو کل ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا محقق بن سکتا تھا، وہ آج مقدمات کے بوجھ تلے دب کر معاشرے سے کٹ جاتا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو بعید نہیں کہ آنے والے برسوں میں ہمارے تعلیمی ادارے خالی اور عدالتیں نوجوانوں سے بھری نظر آئیں۔
اس مسئلے کی جڑیں صرف قانون کے غلط استعمال میں نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں میں بھی پیوست ہیں۔ مذہبی عدم برداشت، سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال، قانونی شعور کی کمی اور معمولی تنازعات کو فوری طور پر فوجداری رنگ دینا اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ سنجیدگی سے سوچیں۔ اے ٹی اے جیسے سخت قوانین کا اطلاق صرف حقیقی دہشت گردی کے واقعات تک محدود ہونا چاہیے۔ علماء، سماجی رہنما اور اساتذہ کو آگے بڑھ کر برداشت، مکالمے اور احترامِ باہمی کو فروغ دینا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور مذہبی حساسیت کے بارے میں آگاہی دینا بھی ناگزیر ہے۔ اسی طرح معمولی تنازعات کے حل کے لیے کمیونٹی سطح پر ثالثی نظام کو فعال بنایا جانا چاہیے تاکہ معاملات تھانے تک نہ پہنچیں۔
ریاست اور معاشرہ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو مجرم نہیں بلکہ مستقبل کا معمار سمجھیں۔ اگر ہم نے آج ان کی رہنمائی نہ کی تو کل یہی مایوسی انہیں ایسے راستوں پر ڈال سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہتی۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
کیا ہم اپنے نوجوانوں کو عدالتوں اور جیلوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں، یا انہیں تعلیم، شعور اور برداشت کے ذریعے ایک روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں؟
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم قانون کے استعمال میں توازن، معاشرتی رویوں میں برداشت اور اختلاف میں شائستگی کو فروغ دیں کیونکہ محفوظ نوجوان ہی محفوظ معاشرے کی ضمانت ہوتے ہیں۔
لہذا نوجوانوں کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنا مستقبل مکمل تباہ کر رہے ہیں یا ماں باپ کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں اور اپنا ایک خوبصورت روشن مستقبل بنا لیتے ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


