مظفرآباد / کاشگل نیوز
پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں و کشمیر کی بیوروکریسی میں مبینہ جعلی ڈومیسائل مافیا سے متعلق سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق معاملہ دو ایسے افسران کے گرد گھومتا ہے جن کا تعلق مانسہرہ سے بتایا جاتا ہے اور جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر جموں وکشمیر کی سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔
رپورٹس کے مطابق سابق سیکرٹری صائمہ شاہجہاں، جو ریٹائر ہو چکی ہیں، اور ان کے بھائی وحید احمد مغل، جو اس وقت گریڈ 19 میں بطور ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز فرائض انجام دے رہے ہیں، تحقیقات کی زد میں آئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے مبینہ طور پر متنازعہ ڈومیسائل کی بنیاد پر سرکاری سروس مکمل کی اور اب ریٹائرمنٹ یا سروس کے آخری مراحل میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد مبینہ جعلسازی ثابت ہونے کی رپورٹ مرتب کی اور کارروائی کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف سیکرٹری کے ذریعے وزیراعظم جموں وکشمیر کو ارسال کی۔ بتایا گیا ہے کہ گریڈ 18 اور اس سے زائد کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے وزیراعظم کی پیشگی منظوری درکار ہوتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دو مرتبہ فائل منظوری کے لیے بھیجے جانے کے باوجود تاحال حتمی اجازت جاری نہیں ہو سکی۔ اس پیش رفت کے بعد حکومتی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا قانونی تقاضے کیوں مکمل نہیں کیے جا رہے اور سفارشات پر عملدرآمد میں تاخیر کی کیا وجوہات ہیں۔
تاہم اس حوالے سے وزیراعظم آفس یا متعلقہ افسران کی جانب سے کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں مبینہ بے ضابطگیاں ثابت ہو چکی ہیں تو شفاف قانونی کارروائی عمل میں لانا ناگزیر ہے، تاکہ عوامی اعتماد بحال رکھا جا سکے۔
دوسری جانب بعض حلقے اس معاملے کو انتظامی اور قانونی پیچیدگی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ حتمی فیصلہ قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ معاملہ اب بھی متعلقہ فورمز پر زیرِ غور بتایا جاتا ہے۔
Share this content:


