ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو مقدمات میں ضمانت منظور

پاکستان کی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے جمعہ کے روز ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دو مقدمات میں ضمانت دے دی، تاہم سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں 10 سالہ سزا برقرار رہنے کے باعث دونوں تاحال جیل میں ہیں۔

اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہر مقدمے میں 5 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔

پہلا مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے باہر مبینہ ہاتھا پائی سے متعلق تھا۔ اس کیس میں شکایت کنندہ اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی نے حلف نامہ جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ان کا کوئی جھگڑا نہیں ہوا اور اگر عدالت ریلیف دینا چاہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ضمانت منظور کر لی۔

دوسرا مقدمہ لاپتہ افراد کے حق میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج سے متعلق تھا۔ ملزمان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا گیا اور ایف آئی آر بے بنیاد ہے۔ استغاثہ کی مخالفت کے باوجود عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ضمانت منظور کر لی۔

دونوں مقدمات میں ریلیف ملنے کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی رہائی سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں سنائی گئی 10 سالہ سزا کی معطلی سے مشروط ہے۔ سزا کے خلاف اپیل اور معطلی کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد آصف نے وکلا کے دلائل سنے۔ وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت سے استدعا کی کہ عید سے قبل سزا معطلی کی درخواست پر تاریخ مقرر کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپیل کا حتمی فیصلہ نہیں چاہتے بلکہ صرف سزا کی معطلی کی درخواست پر جلد سماعت چاہتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمات پالیسی کے مطابق مقرر کیے جاتے ہیں اور پہلے سے زیر التوا کیسز نمٹانے کے بعد ہی نئی تاریخ دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے فوری طور پر سماعت کی تاریخ مقرر نہیں کی۔

رہائی کا انحصار ہائی کورٹ کے فیصلے پر یوں اے ٹی سی سے دو مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی رہائی اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں سزا کی معطلی سے متعلق درخواستوں کے فیصلے سے مشروط ہے۔

Share this content: