پاکستانی فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں افغان حکومت کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو جیسا رسپانس ملنا چاہیے تھا، بالکل ویسا ہی دیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں کی جانے والی کارروائیوں میں ابتک 274 سے زائد دشمن ہلاک اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ افغان طالبان حکومت کی 73 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں، مزید کہا کہ 18 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا اور 115 ٹینک و بکتر بند گاڑیاں تباہ یا قبضے میں لی گئی ہیں۔
تاہم طالبان حکومت نے ان حملوں میں پاکستان کی 12 سے زائد چیک پوسٹوں پر قبضے، پاکستانی اہلکاروں کی ہلاکت، اپنے 12 اہلکاروں کی ہلاکت اور 22 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
پاکستانی اور افغان فورسز کے مابین جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سرحدی علاقے میں افغان فورسز نے بیک وقت پاکستان کی متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ کابل، قندھار، پکتیا، خوست اور پکتیکا میں 22 فضائی ٹارگٹڈ آپریشن کیے گئے، جن میں بریگیڈ اور بٹالین ہیڈکوارٹرز، سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستانی فوج نے گذشتہ شب شروع ہونے والے حملوں میں اپنے 12 اہلکاروں کی ہلاکت اور 27 کی زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
پاکستانی فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا افغان طالبان حکومت فیصلہ کرے کہ وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور داعش کے کا انتخاب کرتے ہیں یا پاکستان کا۔
دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے دعووں کو مسترد کیا اور کہا کہ ان کی فورسز نے جوابی کارروائی میں پاکستان کی 12 سے زائد چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا اور درجنوں پاکستانی اہلکاروں کو ہلاک، زخمی اور گرفتار کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب اسلام آباد میں دیا جائے گا، اور اگر پاکستان نے جنگ جاری رکھی تو اسلامی امارت کی افواج فیصلہ کن کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جھڑپیں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب پاکستان نے اپنے ہاں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار افغانستان میں موجود گروہوں کو قرار دیتے ہوئے سرحدی علاقوں میں بمباری کی تھی۔
افغانستان مسلسل پاکستان کے الزامات کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اسلامی امارت اپنی سرزمین کسی بھی گروہ کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیتی، دونوں ممالک کے درمیان ڈیورنڈ لائن پر اس نوعیت کی جھڑپیں پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہیں۔
Share this content:


