افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کی حالیہ فضائی و زمینی کارروائیوں کہا کہ پاکستان کی کسی بھی جارحیت کا جواب اسلام آباد میں دیا جائے گا۔
جمعہ کی سہ پہر کابل میں جاری پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان جنگ جاری رکھتا ہے تو اسلامی امارت کی افواج فیصلہ کن ردعمل دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
افغان ترجمان نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ پاکستان تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا مسئلہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے جسے افغانستان کے خلاف جارحیت کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، مگر یہ تعلقات پاکستان کے خلاف نہیں، اسلامی امارت کبھی کسی کے کنٹرول میں نہیں رہی اور نہ رہے گی۔
انہوں نے تصدیق کی کہ حالیہ جھڑپوں میں 13 افغان اہلکار ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ جب بھی افغانستان پر حملہ ہوا، افغان حکومت نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی، لیکن حملے ہر بار دہرا دیے گئے، انہوں نے کہا کہ افغانستان نے صرف اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا ہے اور کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان اپنے تمام پڑوسیوں اور عالمی برادری کو یقین دلاتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، افغانستان کی خارجہ پالیسی باہمی احترام پر مبنی ہے اور طالبان حکومت کسی کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی تنازع سے افغانستان کا کوئی تعلق نہیں، پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان لڑائی 20 برس سے جاری ہے اور 2007 میں ٹی ٹی پی نے قبائلی علاقوں میں اپنی موجودگی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے متعدد فوجی آپریشن بھی کیے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت کو افغانستان میں اقتدار سنبھالے چار سال ہونے کو ہیں، اس لیے اب پاکستان کا اپنے پرانے داخلی مسائل کو افغانستان پر منتقل کرنا کسی بھی منطق سے بالاتر ہے۔
Share this content:


