اسلام آباد /کاشگل نیوز
پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں پیش رفت کے حکومتی دعوؤں کے باوجود صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔
وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ گرلز ایجوکیشن اسٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت بھی 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں 1 کروڑ 34 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں، جبکہ نوجوان آبادی کی مجموعی تعداد 14 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار قومی ترقی کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
رپورٹ کے اجرا کے موقع پر وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے اعتراف کیا کہ اسکول چھوڑنے کی بنیادی وجوہات میں سماجی رویے، گھریلو پابندیاں اور مواقع کی کمی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ریاست جس بچی کے ہاتھ میں ڈگری دیتی ہے، اسے آگے بڑھنے کا حق بھی دینا ہوگا”، جو اس امر کا اظہار ہے کہ عملی سطح پر لڑکیوں کو درپیش رکاوٹیں تاحال برقرار ہیں۔
رپورٹ میں جہاں پرائمری مکمل کرنے والی طالبات کی شرح 89 فیصد اور 96 فیصد اسکولوں کی پختہ عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہیں کئی تلخ حقائق بھی سامنے آئے ہیں۔ تعلیمی بجٹ 13 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ 94 فیصد فنڈز تنخواہوں کی مد میں خرچ ہو جاتے ہیں، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف 23 فیصد اسکولوں میں معذور طلبہ کے لیے ریمپ موجود ہے، ڈیجیٹل آلات کی سہولت محض 19 فیصد اداروں تک محدود ہے اور خصوصی تعلیم کا نظام تقریباً غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ غذائی قلت بھی بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں بڑی رکاوٹ قرار دی گئی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ میں لڑکیاں انگریزی، اردو/سندھی، ریاضی اور سائنس کے مضامین میں لڑکوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں، تاہم عملی میدان میں ان کی نمائندگی 24 فیصد سے زائد نہیں ہو پاتی۔ ماہرین کے مطابق “صلاحیت موجود ہے مگر مواقع ناپید ہیں”۔
رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ آبادی کے بڑھتے دباؤ کے باعث فی ہزار بچوں کے مقابلے میں اسکولوں کی دستیابی کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ لڑکیوں کے اسکولوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی شرح صرف 23 فیصد ہے، جو تعلیمی معیار پر مزید سوالات اٹھاتی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی بچیاں باصلاحیت ہونے کے باوجود ریاستی ترجیحات، محدود بجٹ، کمزور انفراسٹرکچر اور سماجی بندشوں کا شکار ہیں۔ اگر بروقت اصلاحات، بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ، جدید سہولیات کی فراہمی اور لڑکیوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی نہ بنایا گیا تو اسکولوں سے باہر بچوں کی موجودہ تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومتی کامیابیوں کے دعوے اپنی جگہ، تاہم زمینی حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی لاکھوں بچیاں آج بھی نظام کی کمزوریوں کا سب سے بڑا ثبوت بنی ہوئی ہیں۔
Share this content:


