پاکستانی کشمیر میں  صدارتی انتخاب میں تاخیر کے خلاف ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر

مظفرآباد/کاشگل نیوز

ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں صدارتی انتخاب کے انعقاد میں تاخیر کے خلاف ایک اہم آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

یہ آئینی رِٹ پٹیشن آئینِ عبوری 1974ء کے آرٹیکل 44 کے تحت دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدرِ ریاست کے عہدہ خالی ہونے کے بعد آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق تیس (30) دن کے اندر اندر انتخاب کا انعقاد لازمی ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اس آئینی تقاضے کی تعمیل نہیں کی گئی۔

درخواست گزاران میں معروف قانون دان راجہ ذوالقرنین عابد خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور سید فخر کاظمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ شامل ہیں، جو سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کے ممبران ہیں۔

اس آئینی درخواست میں درخواست گزاران کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سید ذوالقرنین رضا نقوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ہیں، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہر ریاستی ادارے پر لازم ہے اور اگر کسی کام کو قانون نے مخصوص طریقے اور مدت میں انجام دینے کا حکم دیا ہو تو اس پر اسی طریقے سے عمل کرنا ناگزیر ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ اقدام آئین سے متصادم تصور ہوگا۔

درخواست میں اسپیکر قانون ساز اسمبلی، چیف الیکشن کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے اور معزز عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ایک مناسب حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دے کہ صدرِ آزاد جموں و کشمیر کے انتخاب کو آئینی مدت کے اندر یقینی بنایا جائے۔

درخواست گزاران کے وکیل سید ذوالقرنین رضا نقوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ اس معاملہ میں کوئی متبادل مؤثر قانونی چارہ جوئی دستیاب نہیں، اس لیے معزز عدالت عالیہ کا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے فوری مداخلت ناگزیر ہے تاکہ آئین کی روح اور جمہوری تقاضوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

درخواست گزاران اور ان کے وکیل نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہر سطح پر آئین کی سربلندی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Share this content: