انڈیا کی وزارتِ ثقافت کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی ایک حالیہ پوسٹ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان موئن جو دڑو کے تاریخی اثاثے اور اس کی ملکیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 4500 سال قدیم یہ تاریخی مقام، جو وادیٔ سندھ کی تہذیب کا حصہ ہے، موجودہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے اور اسے 1980 میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔
انڈیا کی وزارت برائے ثقافت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر موئن جو دڑو سے دریافت ہونے والی ایک قدیم مہر (اسٹیٹائٹ پتھر سے بنی مہر) کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ایک تفصیلی دعویٰ پیش کیا۔
انڈین وزارت کا کہنا تھاکہ "یہ تقریباً 4300 سال قدیم مہر انڈیا کی مسلسل جاری تہذیبی روایات کی سب سے طاقتور علامتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں ایک ایسی شخصیت کو دکھایا گیا ہے جو یوگ کے آسن (ملابندھاسن) میں بیٹھی ہوئی ہے، جسے عموماً ‘شِوا پشوپتی’ سمجھا جاتا ہے۔”
وزارت نے مزید لکھا کہ "بے شک قدیم کھنڈرات دورِ جدید کی سرحدوں کی دوسری جانب (پاکستان میں) ہیں، لیکن اس ورثے کا اصل نگہبان انڈیا ہی ہے۔”
انڈین حکام کے مطابق، پشوپتی مہر میں نظر آنے والی یوگ کی حالت، شِوا سے متعلق علامات اور روحانی فکر آج بھی انڈیا کے مندروں، روزمرہ کی عبادت، یوگا کی روایات اور ثقافتی زندگی میں زندہ اور فعال ہے، اور ویدک دور سے موجودہ بھارت تک یہ تہذیبی سلسلہ مربوط رہا ہے۔
دوسری جانب، تاریخ دانوں، ماہرین اور پاکستانی صارفین نے اس دعوے کو حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق جغرافیائی اور تاریخی طور پر موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے قدیم شہر موجودہ پاکستان کی حدود میں واقع ہیں، اس لیے تاریخ کا تعلق اسی زمین سے ہوتا ہے جہاں وہ رونما ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا ہندو مت یا شِوا سے کوئی تعلق نہیں تھا، یہ ایک الگ اور منفرد تہذیب تھی جو اب مکمل طور پر پاکستان کے جغرافیے میں ہے۔
سنہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت اس جگہ سے برآمد ہونے والے نایاب نوادرات کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کر دیا گیا تھا، لیکن خطہ پاکستان میں ہونے کے باعث اس کی دیکھ بھال اور ملکیت پاکستان کا حق ہے۔
انڈین وزارت کی اس پوسٹ پر دونوں ممالک کے صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا ہے۔
پاکستانی صارفین کا ردِعمل:
سینیئر صحافی رضا رومی نے لکھا کہ "یہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا ورثہ ہے اور درحقیقت موئن جو دڑو پاکستان میں واقع ہے۔” صحافی مہوش اعجاز نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ "موہن جو دڑو پاکستان میں ہے۔ کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرنے کی دیدہ دلیری جو اس وقت پاکستان میں موجود ہے، اس منطق سے تو ہمیں تاج محل پر دعویٰ کرنا چاہیے۔” ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ جو کچھ جرمنی میں ہوا وہ فرانس کا نہیں جرمن تاریخ ہے، اسی طرح جو پاکستان میں ہوا وہ پاکستانی تاریخ ہے۔
انڈین صارفین کا ردِعمل:
کچھ انڈین صارفین نے اس پوسٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ انہیں ان کی قدیم جڑوں کی یاد دلاتا ہے۔ تاہم، کئی انڈین صارفین ایسے بھی تھے جنہوں نے سرکاری مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اس مہر کا شِوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
موئن جو دڑو: ‘مُردوں کا ٹیلہ:
واضح رہے کہ موئن جو دڑو (سندھی زبان میں: مردوں کا ٹیلہ) اپنے دور کا ایک انتہائی جدید اور منظم شہر تھا، جہاں 2500 قبل مسیح میں لگ بھگ 40,000 لوگ آباد تھے۔ برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل اور انڈین آفیسر آر ڈی بینرجی کی کوششوں سے اس شہر کی کھدائی ہوئی۔ یہ شہر اپنے دورِ ہم عصر (مصر اور میسوپوٹیمیا) کے مقابلے میں جدید ترین سیوریج نظام، ڈھکے ہوئے نالوں، گھروں میں نجی بیت الخلا اور ایک بڑے ‘عظیم حمام’ (Great Bath) کی وجہ سے دنیا بھر میں صفائی اور شہری منصوبہ بندی کی بہترین مثال مانا جاتا ہے۔
Share this content:


