اسرائیلی اور امریکی جارحیت اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد مختلف اسلامی ممالک کی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جن کے دوران بعض مقامات پر کشیدگی اور تصادم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔ کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے قریب احتجاج کیا، جہاں بعض افراد نے عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کی جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران مبینہ فائرنگ سے اب تک چھ شہریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم حکام کی جانب سے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے شہر اسکردو میں مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفتر پر حملہ کر کے عمارت کو نقصان پہنچایا۔ پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مظاہرین نے ریلی نکالی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے۔
اسی طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان فوری طور پر امریکی سفارتی مشن کو ختم کرے اور اپنے سفارتکار واپس بلائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکومت نے شہریوں سے پرامن احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے قانون ہاتھ میں نہ لینے کی تاکید کی ہے۔
Share this content:


