پاکستانی کشمیر میں صدر کی تدفین کو ایک ماہ مکمل، نوٹیفکیشن کا عدم اجرا،انتخابی عمل تعطل کا شکار

مظفرآباد /کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں  کشمیرمیں اکیسویں صدی میں بھی آئینی و قانونی موشگافیوں کے ذریعے معاملات کو کس طرح الجھایا جاتا ہے، اس کی تازہ مثال الیکشن کمیشن آف جموں و کشمیر کی وضاحت سے سامنے آئی ہے، جس نے انتظامی تاخیر کو آئینی تقاضوں پر ترجیح دیتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ جب تک صدر کی وفات کا باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، اُس وقت تک صدر کو قانونی طور پر “زندہ” تصور کیا جائے گا۔ یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرحوم صدر جموں و کشمیر کو سرکاری پروٹوکول کے تحت تدفین کا عمل مکمل ہوئے بھی ایک ماہ گزر چکا ہے اور عوامی سطح پر وفات کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ دستور کے مطابق صدر کے منصب کے خالی ہونے کی صورت میں تیس دن کے اندر نئے انتخاب کا انعقاد لازم ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق نوٹیفکیشن کی عدم موجودگی کو بنیاد بنا کر انتخابی عمل کو موخر کرنا نہ صرف آئینی روح کے منافی ہے بلکہ جمہوری تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔

سیاسی و قانونی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا ایک شخص کی جسمانی وفات کے باوجود محض کاغذی کارروائی کے سہارے منصب کو خالی تصور نہ کرنا قانونی جواز رکھتا ہے؟ بظاہر صدر عملی طور پر دنیا سے رخصت ہوکر سپرد خاک ہوچکے ہیں، مگر سرکاری دستاویزات میں زندہ قرار دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث نئے انتخاب کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ معاملہ محض ایک نوٹیفکیشن کا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی سنجیدگی، شفافیت اور آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری کا امتحان ہے۔ اگر انتظامی سستی یا دانستہ تاخیر آئینی تقاضوں پر غالب آتی رہی تو یہ روایت مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔

Share this content: