پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں “انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے” کے مؤقف کے ساتھ انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے متنازع ٹویٹس کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ(IHC)میں ہوئی۔
عدالت نے اپیلوں کی جلد سماعت اور سزاؤں کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ بینچ کو تحلیل کر دیا اور ہدایت کی کہ معاملہ نئے بینچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کے سامنے رکھا جائے۔ یہ حکم جسٹس محمد آصف نے جاری کیا۔
یاد رہے کہ جنوری میں ایک سیشن عدالت نے جوڑے کو مختلف الزامات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سزا سنائے جانے کے ایک روز بعد انہیں ایک علیحدہ مقدمے میں اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں کی جانب سے سزا کے خلاف دائر اپیلیں اس وقت ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔
دوسری جانب ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہائی پروفائل کیس میں قانونی جنگ جاری ہونے کے باعث انصاف میں تاخیر کی جا رہی ہے، جو دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔
عدالتی کارروائی کے بعد اب تمام نظریں نئے بینچ کی تشکیل اور آئندہ سماعت کی تاریخ پر مرکوز ہیں۔
Share this content:


