پاکستان میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسانی حقوق کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت اسپیشل پراسیکیوشن ٹیم کی عدم حاضری کے باعث بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کر دی۔
عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 4 جون تک ملتوی کر دی ہے۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمان مزاری کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ آج کی کارروائی سے یہ تاثر ملا ہے کہ ریاست ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جیل میں رکھنے کے لیے مختلف جواز تلاش کر رہی ہے۔
ان کے مطابق پراسیکیوشن ٹیم کی غیر حاضری کے باعث کیس میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
دوسری جانب ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر شیری مزاری نے عدالتی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فریقِ دفاع یہ چاہتا ہے کہ عدالت اپیل پر فیصلہ کرے، خواہ وہ منظور ہو یا مسترد، لیکن مقدمے کو غیر ضروری طور پر طول نہیں دینا چاہیے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے سزا معطلی اور رہائی کی استدعا کی گئی ہے، تاہم عدالت میں آئندہ سماعت 4 جون کو ہوگی، جہاں کیس پر مزید کارروائی متوقع ہے۔
Share this content:


