مہاجرین کی نشستیں: حکومت نے آئینی و قانونی رہنمائی کے حصول کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کردیا

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر نے قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر آئینی و قانونی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے پاکستان زیر انتظام کشمیر حکومت نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا۔

ریفرنس میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق پیدا ہونے والی قانونی و آئینی پیچیدگیوں پر عدالتِ عظمیٰ سے رائے طلب کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے آئینی ابہام اور انتظامی مشکلات سے بچا جا سکے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اہم معاملے کا حل آئین اور قانون کے مطابق نکالنا ضروری ہے تاکہ نمائندگی کے حق اور جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی رائے اس معاملے میں آئندہ حکومتی اقدامات اور انتخابی عمل کے لیے رہنمائی فراہم کرے گی۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ پاکستان زیر انتظام کشمیر میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد اب نظریں عدالتِ عظمیٰ کی آئندہ کارروائی اور اس معاملے پر دی جانے والی قانونی تشریح پر مرکوز ہیں، جس کے اثرات پاکستان زیر انتظام کشمیر کی پارلیمانی اور سیاسی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں ریفرنس پر سماعت کل بروز جمعہ پانچ جون سپریم کورٹ کا تین ججز ز پر مشتمل بینچ کرے گا۔

یاد رہے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین نشستوں کے خاتمے اور دیگر مطالبات منوانے کے لیے نو جون کو عام ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

Share this content: