ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف پاکستانی کشمیر میں احتجاجی مظاہرہ و ریلی ،فوری جنگ بندی کا مطالبہ

باغ /کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی باغ کے زیر اہتمام اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایرانی عوام پر مبینہ سامراجی جارحیت کے خلاف بھرپور عوامی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرین نے ریلی اور جلسے کی صورت میں سامراجی طاقتوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

احتجاجی ریلی کا آغاز خان چوک سے کیا گیا جہاں شرکائے ریلی نے سامراج مردہ باد اور ایرانی عوام کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے شہر کے مختلف راستوں سے مارچ کیا۔

ریلی باغ شہر کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی امام بارگاہ باغ پہنچی، جہاں سے مظاہرین جلوس کی شکل میں انقلابی اور احتجاجی نعرے لگاتے ہوئے حیدری چوک کی جانب روانہ ہوئے۔

اسی دوران بازار کی جانب سے آنے والے ایک اور احتجاجی جلوس سے ان کا ملاپ ہوا، جس کے بعد دونوں جلوس ایک دوسرے میں ضم ہو گئے اور باغ شہر کی فضائیں سامراجی جارحیت اور استعماریت کے خلاف نعروں سے گونج اٹھیں۔

بعد ازاں مظاہرین حیدری چوک باغ میں جمع ہو کر ایک بڑے احتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گئے۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر عابد شاہین نے مختلف قراردادیں پیش کیں جنہیں شرکائے احتجاج نے ہاتھ بلند کر کے متفقہ طور پر منظور کیا۔

اجلاس میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں کہا گیا کہ اجتماع امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی جانے والی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔

مزید مطالبہ کیا گیا کہ عالمی عدالت انصاف میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جائیں اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

قراردادوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ فوری جنگ بندی کر کے امن مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور عالمی طاقتوں کو جنگی جنون ترک کر کے امن کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔

اجتماع نے عرب ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے فوری خاتمے کا اعلان کریں۔

مظاہرین نے دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور امن پسند ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ آگے بڑھ کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ موجودہ جنگی صورتحال پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اجتماع میں جنوبی ایشیا کے ممالک، خصوصاً پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کسی صورت امریکی سامراج کی جنگوں کا حصہ نہ بنیں کیونکہ خطے کے ممالک پہلے ہی غربت، جہالت، بے روزگاری اور علاج معالجے کی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں اور مزید جنگی تنازعات عوام کی مشکلات میں اضافہ کریں گے۔

Share this content: