تہران میں تیل ڈپو دھماکہ: گھنے دھوئیں اور تیزابی بارش کا خطرہ، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت

ایران کے دارالحکومت تہران میں گزشتہ رات آئل ڈپو پر حملے کے بعد صبح سے شہر میں دھوئیں کے کالے بادل چھائے رہے۔

تہران میں موجود سی این این کے نمائندے نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تہران میں بارش برسی تو ساتھ میں تیل کے ذرات بھی شامل ہوگئے جس سے بارش کا پانی سیاہ ہوگیا۔

ایران کے دارلحکومت تہران میں گذشتہ رات اسرائیلی حملوں کے بعد پھٹنے والے ایندھن کے ٹینک دس گھنٹے گزرنے کے باوجود جل رہے ہیں، اور شہر کے بڑے حصے پر گھنا، زہریلا دھواں چھایا ہوا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم نے شہریوں کو غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز اور گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کی تنظیم نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ’موجودہ حالات اور تہران میں آلودگی کے داخلے کے پیش نظر غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے گریز کریں اور اپنے گھروں میں زیادہ سے زیادہ رہیں۔‘

ادھر ایرانی ہلال احمر نے آگ لگنے کے نتیجے میں تیزابی بارش کے امکان کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

ہلال احمر کے بیان کے مطابق ’تیل ڈپو کے پھٹنے سے ہائیڈرو کاربن کے زہریلے مرکبات اور سلفر اور نائٹروجن کے آکسائیڈز کی بڑی مقدار فضا اور بادلوں میں داخل ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بارش بہت خطرناک ہوتی ہے اور اس میں تیزابیت کی خاصیت ہوتی ہے۔‘

ہلال احمر نے کہا کہ یہ رجحان جلد کو کیمیکل جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ہلال احمر نے شہریوں پر زور دیا کہ ’بارش کے جلد کے ساتھ رابطے میں آنے کی صورت میں، کسی بھی حالت میں اس جگہ کو نہ رگڑیں اور صرف ٹھنڈے پانی سے دھوئیں، جو کپڑے اس بارش میں بھیگ گئے ہیں انھیں فوری طور پر تبدیل کریں اور انھیں سیل بند بیگ میں رکھیں۔‘

Share this content: