پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ھالات شدید کشیدہ ہیں۔راولاکوٹ میں جاری دھرنے پر پاکستانی فورسزکی براہ راست فائرنگ اور شیلنگ سے 9 افراد زخمی ہوگئے جن میں 2 کی حالت نازک تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز اور پولیس کی پیش قدمی اور گذشتہ کئی گھنٹوں سے جاری تھی جہاں مظاہرین کے ساتھ تصادم بھی ہوئی ہے اور فورسزکو مظاہرین کے سامنے پسپا ہونا پڑا۔
کہا جارہا ہے کہ مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم اور پسپائی کے بعد سیکورٹی فورسز نے اپنی حفاظت کی خاطر گھروں میں پناہ لینے کی کوشش کی، تاہم خواتین نے انہیں واپس بھگا دیا۔
فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو سی ایم ایچ راولاکوٹ میں داخل کیا گیا ہے جن میں 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی ہے ۔
زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق عوامی ایکشن کمیٹی سے بتائی جارہی ہے۔
دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ شاہ زیب شہید کے نماز جنازہ کی ادائیگی کے وقت فورسز کی طرف سے شیلنگ، براہ راست فائرنگ یہ واضح کر رہی ہے کہ حکمران اپنی عیاشیوں کو بچانے کیلئے عوام کو کُچلنے کے درپے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 9 نوجوان زخمی ہو چکے ہیں،اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی مرد گھر میں موجود نہ رہے۔ راولاکوٹ احتجاجی دھرنے کا رُخ کریں، ہم پرامن ہیں، پُرامن رہیں گے ۔ اس ظلم جبر سے ہمیں دُبایا نہیں جا سکتا۔
Share this content:


