پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چار یا چار سے زیادہ افراد کسی ایک مقام پر اکھٹے نہیں ہو سکتے۔
اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر مظفر آباد کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شاہ زیب کو انصاف فراہم کرنے کے لئے گذشتہ روز سے راولاکوٹ میں دھرنا جاری ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فورسزاہلکار دھرنا گاہ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں ۔ فورسز اور عوام آمنے سامنے آگئے ہیں جس سے تصادم اور کریک ڈائون کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔
اس وقت راولاکوٹ میں حالات کشیدہ ہیں اور وہاں پر رینجرز کے اہلکاروں کو حساس مقامات پر تعینات کردیا گیا ہے۔
کشمیر بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے جبکہ موبائل فون کام کر رہے ہیں۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق شاہزیب کی ہلاکت کے خلاف مظفر آباد اور کشمیر کے دیگر علاقوں میں تاجروں اور ٹرانسپورٹروں نے ہڑتال کر رکھی ہے۔
مظفر آباد سمیت کشمیر کے حساس مقامات پر رینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں سپریم کورٹ کے علاوہ قانون ساز اسمبلی، ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کی عمارتیں شامل ہیں۔
Share this content:


