مظفرآباد/راولاکوٹ / کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر جموں و کشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔ مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں کاروباری مراکز، بازار اور تجارتی سرگرمیاں بند رہیں جبکہ متعدد مقامات پر احتجاجی اجتماعات اور دھرنے بھی جاری ہیں۔ احتجاجی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال میں عوامی ردعمل بھرپور ہے اور مختلف علاقوں میں ہڑتال کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے۔
راولاکوٹ میں گزشتہ دنوں فائرنگ سے شاہ زیب حبیب کے قتل کے بعد شروع ہونے والا دھرنا بدستور جاری ہے۔ دھرنے کے مقام پر عوام کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ مقررین کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب آزاد پتن سمیت اہم داخلی راستوں پر بھی احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کے مطابق آزاد پتن انٹری پوائنٹ پر ہر قسم کی ٹریفک بند ہے تاہم ایمرجنسی سروسز، مریضوں اور ضروری سفری حالات میں لوگوں کے لیے راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق احتجاجی کمیٹیاں ضروری انسانی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مریضوں اور مسافروں کو سہولت فراہم کر رہی ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو بھمبر سے نیلم تک جموں و کشمیر کے تمام اضلاع سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ کمیٹی کے رہنماؤں کے مطابق مختلف علاقوں سے قافلے مظفرآباد روانہ ہوں گے جہاں ایک بڑا عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ عوامی مطالبات کی منظوری اور موجودہ صورتحال کے حل تک تحریک جاری رہے گی جبکہ مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔
Share this content:


