ایرانی سمندری حدود میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے بلوچستان کا شہری ہلاک

ایرانی سمندری حدود میں ڈرون کا ملبہ گرنے سے بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔

مکران ڈویژن میں سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شہری کی کشتی ڈرون کے ملبے کی زد میں آ گئی تھی۔

ضلع گوادر میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مارے جانے والے شخص کی شناخت طیب بلوچ کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق، یہ واقعہ سینیچر کی شام کو پیش آیا تھا۔

گوادر پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طیب بلوچ کا تعلق ضلع گوادر کی تحصیل جیونی میں گنز کے علاقے سے تھا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ جوان تھے اور ایک کشتی کے ملاح تھے۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ طیب ماہی گیری اور ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ تھے جس کے لیے ان کو ایرانی حدود میں جانا پڑتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیچر کی شام طیب بلوچ کی کشتی ایرانی حدود میں تھی جہاں وہ ڈرون کے ملبے کی زد میں آگئے۔

انتظامی لحاظ سے گوادر بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

رابطہ کرنے پر مکران ڈویژن کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر طیب بلوچ کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی تاہم انھوں نے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہمیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایرانی حدود میں ایرانی فورسز نے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا جس کے ملبے کا کچھ حصہ اس شخص کی کشتی پر آگرا جس سے ان کی موت ہوئی۔

گوادر میں پولیس اہلکار نے بتایا کہ طیب بلوچ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال نہیں لے جایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے رشتہ داروں نے لاش کو لا کر ان کے آبائی علاقے میں گنز میں ان کی تدفین کی ۔

اس واقعے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں لیکن پولیس اہلکار نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

جیونی سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی جاوید شے نے بتایا کہ واقعے کے بعد کشتی میں موجود دوسرے شخص نے ہی طیب بلوچ کی لاش کو گنز پہنچایا۔

جیونی ایران سے متصل ضلع گوادر کی تحصیل ہے جس کی آبادی مچھیروں پر مشتمل ہے۔

جیونی ایرانی سرحد سے اندازاً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

Share this content: