تحقیق و تحریر: خواجہ کبیر احمد
انسانی تاریخ میں طاقت، مفادات اور جنگ ہمیشہ ایک دوسرے سے جڑے رہے ہیں۔ گزشتہ دو صدیوں میں امریکہ نے عالمی جنگوں اور سیاست میں ایک منفرد کردار ادا کیا اور دنیا کے مختلف خطوں میں فوجی مداخلتیں کیں، جو امریکہ کے مطابق اس کے جیوپولیٹیکل، معاشی اور دفاعی مفادات کے لیے تھیں۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں قائم ہونے والا یہ ملک ابتدا میں اپنی بقا اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے جنگیں لڑا، مگر وقت کے ساتھ اس کی فوجی سرگرمیاں پوری دنیا میں محسوس ہونے لگیں۔
امریکی Congressional Research Service کے مطابق 1798 سے 2026 تک امریکہ نے دنیا کے تقریباً ہر خطے میں چار سو سے زیادہ فوجی مداخلتیں کی ہیں، جن میں بڑی جنگیں، محدود فوجی کارروائیاں، فضائی و بحری حملے، ڈرون آپریشن اور حکومتوں کی تبدیلی کی کوششیں شامل ہیں۔ ہر دور میں ان مداخلتوں کے پیچھے مخصوص سیاسی اور اقتصادی مقاصد کارفرما رہے۔
امریکی انقلاب (1775–1783) میں امریکہ نے برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد کی اور ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ آزادی کے بعد بھی برطانیہ کے ساتھ کشیدگی برقرار رہی، جس نے 1812 کی جنگ کو جنم دیا۔ اگرچہ یہ جنگ کسی واضح فاتح کے بغیر ختم ہوئی، مگر اس نے امریکی قومی شناخت کو مضبوط کیا۔
انیسویں صدی میں امریکہ نے اپنی سرحدیں بڑھانے کے لیے Manifest Destiny کے نظریے کو اپنایا۔ اسی سلسلے میں میکسیکو جنگ (1846–1848) لڑی گئی، جس کے نتیجے میں کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ، ایریزونا اور نیو میکسیکو امریکہ کے حصے بن گئے۔ ہلاکتیں تقریباً 40,000 تھیں۔ ہسپانوی‑امریکی جنگ (1898) نے امریکی خارجہ پالیسی کو نیا رخ دیا اور اس کے نتیجے میں فلپائن، گوام اور پورٹو ریکو امریکہ کے قبضے میں آ گئے۔ تاہم فلپائن میں آزادی کی تحریک نے ایک نئی جنگ کو جنم دیا، اور 1899 سے 1902 تک جاری رہنے والی فلپائن جنگ میں دو لاکھ سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔
بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ عالمی طاقتوں کی صف میں شامل ہو چکا تھا۔ پہلی عالمی جنگ (1917–1918) میں امریکہ ابتدا میں غیر جانبدار رہا، مگر بعد میں اتحادی طاقتوں کے ساتھ شامل ہوا، جس سے جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا ہوا۔ دوسری عالمی جنگ (1941–1945) جاپان کے پرل ہاربر حملے کے بعد شروع ہوئی اور اس کے آخری مرحلے میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم گرائے، جس میں تقریباً دو لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا دو بڑے عسکری بلاکس میں تقسیم ہو گئی ایک امریکہ اور اس کے اتحادی، اور دوسرا سوویت یونین اور اس کے حامی۔ اس دوران امریکہ کی فوجی مداخلتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ کوریا جنگ (1950–1953) میں امریکہ نے جنوبی کوریا کی حمایت کی، جبکہ شمالی کوریا کو چین اور سوویت یونین کی مدد حاصل تھی۔ ہلاکتیں تقریباً 3 لاکھ تھیں۔ ویتنام جنگ (1955–1975) سرد جنگ کی سب سے خونریز جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ امریکہ نے جنوبی ویتنام کی حکومت کی حمایت میں کمیونسٹ شمالی ویتنام کے خلاف جنگ لڑی، جس میں تقریباً بیس لاکھ ویتنامی شہری اور 58,000 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی دوران متعدد محدود مداخلتیں بھی ہوئیں، جیسے لبنان (1958)، کیوبا (1961)، ڈومینیکن ریپبلک (1965)، کمبوڈیا و لاوس (1970 کی دہائی)، گریناڈا (1983) اور پاناما (1989)۔ پاناما میں صدر مینوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔
1991 میں خلیج جنگ میں عراق نے کویت پر قبضہ کیا۔ امریکہ نے عالمی اتحاد کی قیادت میں عراق کو کویت سے نکالا، جس میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ صومالیہ (1992–1994) میں امدادی کارروائیوں کے دوران شدید لڑائیاں ہوئیں اور بالکان / کوسوو (1999) میں NATO کے ساتھ فضائی بمباری کی گئی۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا اور افغانستان پر حملہ کیا۔ یہ جنگ بیس سال تک جاری رہی، جس میں ہزاروں شہری ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ 2003 میں عراق پر حملہ کیا گیا، جو اس دعویٰ کی بنیاد پر کیا گیا کہ وہاں تباہ کن ہتھیار موجود ہیں، مگر بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ اس جنگ میں دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اکیسویں صدی میں امریکی فوجی حکمت عملی میں ڈرون جنگ سامنے آئی، جس کے تحت پاکستان، یمن اور صومالیہ میں کارروائیاں کی گئیں۔ 2011 میں لیبیا میں قذافی حکومت کے خلاف اور 2014 سے شام میں داعش کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے Operation Lion’s Roar کے تحت ایران پر فضائی و میزائل حملے کیے۔ اس جنگ کا مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ کو محدود کرنا بتایا گیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے آبنائے ہرمز اور عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتیں ایران میں 1,200+، اسرائیل 11 اور امریکی فوج 8 بتائی جا رہی ہیں، مگر یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور مزید تبدیل ہو سکتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو امریکی فوجی مداخلتوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور کروڑوں متاثر ہوئے۔ امریکہ کے مطابق ان جنگوں میں بنیادی مقاصد میں قومی سلامتی، علاقائی طاقت کا توازن، توانائی اور تجارتی راستوں پر کنٹرول، جمہوری اقدار کے فروغ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شامل رہی ہیں۔ تاہم یہ سوال عالمی مباحث کا حصہ ہونا چاہئیے کہ کیا عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی مداخلت ہی بنیادی راستہ ہے ؟
دو صدیوں پر محیط یہ تاریخ صرف جنگوں کی فہرست نہیں بلکہ عالمی طاقت کے ارتقا اور جیوپولیٹیکل حکمت عملی کی مسلسل داستان ہے، اور 2026 کی ایران جنگ نے اس داستان میں ایک نیا اور حساس باب شامل کر دیا ہے۔
نوٹ: اس کالم میں بیان تمام تر اعداد و شمار مختلف تحقیقی اور عالمی اداروں جیسے:
Congressional Research Service – Instances of Use of United States Armed Forces Abroad
Brown University – Costs of War Project
SIPRI Military Conflict Database
Uppsala Conflict Data Program (UCDP)
Encyclopaedia Britannica – History of U.S. Military Interventions
Council on Foreign Relations – U.S. Military Interventions Timeline
کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


