تحریر: خواجہ کبیر احمد
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک ایک بار پھر ایک اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری یہ تحریک طویل عرصے سے عوامی مطالبات، احتجاج اور مذاکرات کے درمیان جھولتی ہوئی اب ایک مرتبہ پھر ایک بڑے عوامی مارچ اور احتجاجی لہر کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
9 جون سے پورے خطے میں غیر معینہ مدت کے لیے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ اسی روز بھمبر اور میرپور سے ایک بڑا احتجاجی مارچ شروع ہوگا جو کوٹلی سے گزرتا ہوا راولاکوٹ پہنچے گا۔ راستے میں آنے والے تمام شہروں اور قصبوں سے عوام اس مارچ میں شامل ہوتے جائیں گے۔ 10 جون کو یہ قافلہ راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب پیش قدمی کرے گا جہاں مظفرآباد ڈویژن سے آنے والے دیگر احتجاجی مارچ بھی اس میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد اسمبلی کے سامنے پرامن دھرنا اور گھیراؤ کیا جائے گا جو اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جب تک چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملی پیش رفت نہیں ہوتی۔
تحریک سے وابستہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان کے تمام مطالبات نہ صرف جائز تسلیم کیے جا چکے ہیں بلکہ حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے مختلف مواقع پر ان پر عملدرآمد کے وعدے بھی کیے جا چکے ہیں۔ اب بنیادی سوال ان وعدوں کو عملی شکل دینے کا ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے بحران کا خاتمہ ہو سکے۔
چارٹر آف ڈیمانڈ میں مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے، اشرافیہ کو حاصل خصوصی مراعات کے خاتمے، ریاستی وسائل پر مقامی عوام کے حقِ ملکیت و اختیار، اور عوامی نمائندگی کو مضبوط بنانے جیسے بنیادی نکات شامل ہیں۔ تحریک کا مؤقف ہے کہ حقیقی جمہوری حکمرانی اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو اپنے وسائل اور مستقبل کے فیصلوں میں براہِ راست اختیار حاصل ہو۔
طویل عرصہ سے جاری اس عوامی تحریک کا سب سے اہم پہلو اس کا پرامن کردار ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تقریباً تین برس سے مسلسل یہ ثابت کرتی آ رہی ہے کہ اس کی جدوجہد کا راستہ تشدد نہیں بلکہ عوامی دباؤ، سیاسی شعور اور پرامن مزاحمت ہے۔ اس عرصے کے دوران کمیٹی کی جانب سے نہ کسی سرکاری عمارت کو نقصان پہنچایا گیا، نہ عوامی یا نجی املاک کو نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی مسلح کارروائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔
اس کے برعکس ماضی کے احتجاجی مراحل میں حکومتی نا اہلی سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہی واقعات نے عوامی حافظے میں گہرے زخم چھوڑے اور آج بھی عوام کے اندر عدم اعتماد اور تشویش کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ جب 9 جون کے لیے ایک اور پرامن احتجاجی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے تو عوام کی نظریں ریاستی اداروں کے طرزِ عمل پر مرکوز ہیں۔
اس مرتبہ بہت پہلے ہی ریاست کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں اضافی فورسز اور اسلحہ سے لیس کمانڈوز کی تعیناتی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دنیا بھر میں مقیم لاکھوں کشمیریوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم کشمیری اپنے خاندانوں اور آبائی علاقوں کے حوالے سے فکرمندی کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایک پرامن احتجاج سے قبل اس نوعیت کے غیر معمولی انتظامات کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی سوالات کو جنم دیتی ہے کہ چند روز قبل وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے ایک میڈیا گفتگو میں کہا تھا کہ احتجاجی مارچ کے شرکاء کے لیے ٹھنڈے پانی اور طبی سہولیات کا انتظام کیا جائے گا۔ اگر حکومت اس احتجاج کو ایک جمہوری اور پرامن عمل سمجھتی ہے تو پھر عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اضافی فورسز کی تعیناتی اور سخت سکیورٹی انتظامات کا مقصد کیا ہے۔
ایسے حالات میں حکومت کو طاقت کے مظاہرے کے بجائے اعتماد سازی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بارہا اس احتجاج کے پرامن ہونے کی یقین دہانی کرا چکی ہے اور اس کی گزشتہ تین سالہ جدوجہد بھی اس دعوے کی گواہ ہے تو ریاستی اداروں کو بھی ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عوامی بے چینی میں اضافے کا باعث بنیں۔
یہ تحریک صرف داخلی انتظامی معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات خطے کے مجموعی سیاسی بیانیے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں عوامی حقوق، شفاف حکمرانی اور سیاسی شمولیت کی ایسی مثال قائم کرے جو اس کے بین الاقوامی مؤقف کو مزید مضبوط بنا سکے۔
تحریک سے وابستہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان تعلقات طاقت کے بجائے باہمی رضامندی، عوامی شمولیت اور اعتماد پر مبنی ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق ایک پائیدار اور پرامن سیاسی نظام اسی صورت میں تشکیل پا سکتا ہے جب عوام کی آواز کو سنا جائے اور ان مطالبات پر عملدرآمد کیا جائے جنہیں ماضی میں مختلف حکومتی اور ریاستی حلقے جائز قرار دے چکے ہیں۔
موجودہ صورتحال ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اصل امتحان وعدوں کے نفاذ، عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی بصیرت کا ہے۔ اگر حکومت اور ریاستی ادارے پہلے سے تسلیم شدہ مطالبات پر فوری اور عملی پیش رفت کرتے ہیں تو نہ صرف ممکنہ کشیدگی سے بچا جا سکتا ہے بلکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر یہ بحران مزید گہرائی اختیار کر سکتا ہے اور خطے کو ایک نئے سیاسی اور سماجی تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
آنے والے چند دن اس حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ احتجاج کتنا بڑا ہوگا، یا پر امن عوام پرحکومتی تشدد کی نوعیت کیا ہو گی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے عوام کے ساتھ مکالمے، اعتماد اور سیاسی حل کا راستہ اختیار کرتی ہے یا ایک مرتبہ پھر طاقت اور دباؤ کے ذریعے ایک ایسے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کا مستقل حل صرف عوامی اعتماد اور چارٹر آف ڈیمانڈ کو عملی طور پر مکمل کرنے میں پوشیدہ ہے۔
***
Share this content:


