تحریر: پروفیسر سکندر خان
یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (آزاد جموں و کشمیر یا AJK) میں قائم عوامی سول سوسائٹی کا ایک نمایاں اور متحرک اتحاد ہے۔ اس تنظیم کے ارد گرد کے حالات تیزی سے بدلے ہیں، جن کے نتیجے میں گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران انتہائی اہم اور ہنگامی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
1۔ ساخت اور بنیادی مطالبات
روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس، عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) ایک غیر مرکزی اتحاد کے طور پر قائم کی گئی تھی، جو مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹرز، وکلاء، طلباء اور شہری گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی ہے۔ یہ تحریک اپنے جامع 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز (مطالبات نامہ) کے تحت چلائی جا رہی ہے، جسے بنیادی طور پر دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
اقتصادی ریلیف: آٹے پر سبسڈی کی فراہمی اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی۔ ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ بجلی کی قیمتیں قومی گرڈ کے ٹیرف کے بجائے مقامی پن بجلی کی سستی پیداواری لاگت (جیسے منگلا ڈیم) کے مطابق ہونی چاہئیں۔
ڈھانچہ جاتی اور حکومتی اصلاحات: سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ کی سرکاری مراعات و امتیازات میں کمی، اور سب سے زیادہ متنازع معاملہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں کا خاتمہ۔ ایکشن کمیٹی کا استدلال ہے کہ ان نشستوں کو پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں مظفر آباد میں اپنی مرضی کی حکومتیں بنانے (انجنیئرنگ کرنے) کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
2۔ اہم احتجاجی تحریکوں اور معاہدوں کا پس منظر (2023ء تا 2025ء)
اواخر 2023ء: یہ اتحاد مقامی تاجروں کی قیادت میں ہونے والی ہڑتالوں کے نتیجے میں باقاعدہ شکل اختیار کر گیا، جس نے پورے خطے میں بڑی ریلیوں کو متحرک کیا۔
مئی 2024ء: بڑے پیمانے پر "لانگ مارچ” اور خطہ گیر شٹر ڈاؤن ہڑتالوں نے بڑے شہروں کو مفلوج کر دیا۔ حکومت نے عارضی طور پر ہتھیار ڈال دیے، آٹے کی قیمتوں میں کمی کی اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کر دی۔
سیپٹمبر/اکتوبر 2025ء: حکومت پر ڈھانچہ جاتی وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، ایکشن کمیٹی نے ایک شدید اور غیر معینہ مدت کے لیے علاقائی لاک ڈاؤن شروع کر دیا۔ مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 سے 15 افراد جاں بحق (بشمول شہری اور پولیس اہلکار) اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
10 اکتوبر 2025ء (معاہدہ امن): وفاقی وزراء، آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کی قیادت کے درمیان ایک باضابطہ امن معاہدہ دستخط ہوا۔ حکومت نے مہاجرین کی نشستوں کی منسوخی پر غور کرنے اور علاقائی ہیلتھ کارڈز کی توسیع کے لیے 90 دن کی مہلت کا وعدہ کیا۔
3۔موجودہ بحران اور سرکاری پابندی (جون 2026ء)
گزشتہ سال کے آخر میں قائم ہونے والا عارضی امن، 27 جولائی 2026ء کو ہونے والے آزاد کشمیر کے عام انتخابات کی وجہ سے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے:
مذاکرات میں ڈیڈ لاک (31 مئی 2026ء): وفاقی مذاکرات کاروں (رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں) اور ایکشن کمیٹی کے 16 مرکزی اراکین کے درمیان 9 گھنٹے طویل میراتھن مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اگرچہ حکومت نے دعویٰ کیا کہ 98 فیصد سماجی و اقتصادی مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، لیکن 12 مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے پر مذاکرات مکمل طور پر رک گئے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے ان نشستوں کو برقرار رکھنے کا بھرپور دفاع کیا۔
ہڑتال کی کال: مذاکرات کی ناکامی کے بعد، ایکشن کمیٹی کی قیادت نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور 9 جون 2026ء سے پورے خطے میں بڑے پیمانے پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دے دی۔ یہ وہی دن ہے جب آزاد کشمیر الیکشن کمیشن امیدواروں کے لیے کاغذات نامزدگی کھول رہا ہے۔
باقاعدہ پابندی (5 جون 2026ء): آزاد کشمیر حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی۔ محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن میں اس گروپ پر دہشت گردی میں ملوث ہونے، انارکی پھیلانے اور جمہوری انتخابی عمل کو پرتشدد طریقے سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا۔ باہر سے آنے والے افراد اور سیاحوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور امن و امان کا کریک ڈاؤن (6 جون 2026ء): ایک وسیع سیکیورٹی آپریشن جاری ہے۔ آزاد کشمیر پولیس نے کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ کئی ہائی پروفائل رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ چھاپوں کے دوران مواصلاتی آلات اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ کمیٹی کے اندر کچھ عناصر بڑے پیمانے پر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
مقررہ 9 جون کی ہڑتال کے قریب آتے ہی خطہ شدید تناؤ کی زد میں ہے، جہاں مزید عوامی متحرک سازی کو روکنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی ہے اور مقامی سطح پر مواصلاتی روابط معطل کیے جا رہے ہیں۔
جموں کشمیر ایکشن کمیٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے اقدامات
مذاکرات کی ناکامی اور اس کے بعد 9 جون 2026ء کی ہڑتال کی کال کے جواب میں، وفاقی حکومت پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر (AJK) کی علاقائی حکومت نے مل کر ایک وسیع اور کثیر الجہتی کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے۔ اس حکمت عملی میں سخت قانونی پابندیاں، انتظامی لاک ڈاؤن، اور بھاری سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی شامل ہے تاکہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے تنظیمی ڈھانچے کو باضابطہ طور پر ختم کیا جا سکے اور عوامی مہم جوئی کو روکا جا سکے۔
۱۔ قانونی پابندی (انسداد دہشت گردی ایکٹ)
آزاد کشمیر کے ریاستی ڈھانچے کی طرف سے استعمال کیا جانے والا بنیادی قانونی ہتھیار ایکشن کمیٹی پر باضابطہ پابندی ہے۔
پابندی کا حکم نامہ: انتظامی مشورے پر عمل کرتے ہوئے، صدر آزاد کشمیر نے محکمہ داخلہ کو اختیار دیا کہ وہ JK-JAAC (اور اس سے وابستہ دیگر ناموں) کو آزاد کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA, 2014) کے فرسٹ شیڈول (پہلے جدول) میں شامل کرے۔
قانونی جواز: سرکاری نوٹیفکیشن میں اس اتحاد پر واضح طور پر "دہشت گردی میں ملوث ہونے،” "امن و سیکیورٹی کے لیے نقصان دہ” انداز میں کام کرنے، انارکی پھیلانے، عوام کو ڈرانے دھمکانے اور سماجی عدم تحفظ پیدا کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس اقدام کے بعد کمیٹی سے جڑی کسی بھی عوامی سرگرمی، فنڈز اکٹھا کرنے یا سہولت کاری کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
۲۔ انتظامی لاک ڈاؤن اور سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی
ایکشن کمیٹی کو ریلیاں نکالنے یا "پیہ جام” اور "شٹر ڈاؤن” ہڑتالیں نافذ کرنے کے لیے جگہ فراہم نہ کرنے کے مقصد سے ریاست نے سخت انتظامی لاک ڈاؤن شروع کیا ہے:
نیم فوجی دستوں کا نفاذ: اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے مظفر آباد، میر پور اور راولاکوٹ جیسے حساس مراکز میں مقامی آزاد کشمیر پولیس کی مدد کے لیے وفاقی نیم فوجی دستے (بشمول فرنٹیر کانسٹیبلری اور رینجرز) روانہ اور تعینات کر دیے ہیں۔
سخت سفری پابندیاں: آزاد کشمیر کے محکمہ اطلاعات (PID) نے ایک ہنگامی اور لازمی سفری ایڈوائزری جاری کی ہے جو 5 جون سے 20 جون 2026ء تک نافذ العمل ہے۔
باہر کے لوگ اور سیاح: تمام سیاحوں اور غیر مقامی رہائشیوں کو فوری طور پر آزاد کشمیر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نئے مسافروں کے خطے میں داخلے پر قانونی پابندی عائد ہے۔
ہاسٹلز کو خالی کرانا: میر پور جیسے اضلاع میں مقامی انتظامیہ نے تمام سرکاری و نجی ہاسٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور بورڈنگ اداروں کو مکمل طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسمبلی کے تحفظ کا عزم: آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے باضابطہ بیانات منظور کیے ہیں جن میں ایکشن کمیٹی کے بنیادی سیاسی الٹی میٹم کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ریاستی اداروں نے واضح کیا ہے کہ مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور 27 جولائی کے عام انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
۳۔ پولیس ایکشن، حفاظتی گرفتاریاں اور زبردستی کے خلاف حکمت عملی
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہجوم کو محض سنبھالنے کے بجائے اب پیشگی روک تھام کا طریقہ اپنایا ہے:
گرفتاریوں کی ٹارگٹڈ مہم: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آدھی رات کو چھاپے مار کر کمیٹی سے وابستہ کم از کم 72 اہم منتظمین، مقامی تاجروں اور طلباء رہنماؤں کو حفاظتی حراست میں لے لیا ہے۔
زبردستی دکانیں بند کرانے کے خلاف کارروائی: حکومت نے ایکشن کمیٹی کے روایتی نعرے "بند، مطلب بند” کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ آزاد کشمیر کے حکام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر کمیٹی کے کارکنوں نے دکانیں زبردستی بند کرانے یا اہم تجارتی شاہراہیں بلاک کرنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا، کیونکہ زبردستی کی ہڑتال کو جمہوری اظہار نہیں بلکہ عوام کو ہراساں کرنا تصور کیا جائے گا۔
ڈیجیٹل پابندیاں: ایکشن کمیٹی کی انتہائی مؤثر اور غیر مرکزی عوامی مہم کو ناکام بنانے کے لیے ڈیجیٹل نگرانی بڑھا دی گئی ہے، اور مقامی انتظامیہ 9 جون کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ سے قبل موبائل ڈیٹا اور internet بلیک آؤٹ (بندش) کی تیاریاں کر رہی ہے۔
آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راٹھور نے ان سخت اقدامات کا علانیہ دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پرامن اختلاف رائے کا تحفظ کیا جاتا ہے، لیکن ریاست "موب رول” (ہجوم کی حاکمیت)، عوامی انفراسٹرکچر کی ناکہ بندی، اور ریاستی اداروں کو دھمکانے کے خلاف ایک قطعی لائن کھینچ رہی ہے۔
"ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات پرامن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، تو حکام اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں؟ کیا یہ ریاستی حد سے بڑھا ہوا اقدام نہیں ہے؟”
یہ موجودہ بحران کا سب سے مرکزی اور گہرا اختلافی سوال ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) اپنی تحریک کو جس نظر سے دیکھتی ہے اور ریاستی حکام اسے جس طرح دیکھتے ہیں، ان کے درمیان واضح تضاد ہی اس صورتحال کے اتنی تیزی سے بگڑنے کی اصل وجہ ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ پرامن احتجاج کے عوامی عزم کے باوجود ایک سول سوسائٹی کے اتحاد کو قانونی طور پر "دہشت گرد تنظیم” کیسے قرار دیا جا سکتا ہے، انسداد دہشت گردی کے قوانین کے طریقہ کار اور دونوں فریقین کے مخصوص دلائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
قانونی فریم ورک: ریاست پابندی کا جواز کیسے پیش کرتی ہے؟
آزاد جموں و کشمیر انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) — جو پاکستان کے وفاقی انسداد دہشت گردی کے قوانین کے عین مطابق ہے — کے تحت "دہشت گردی” کی قانونی تعریف صرف مسلح عسکریت پسندی یا جسمانی تشدد تک محدود نہیں ہے۔ یہ قانون ریاست کو کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کی اجازت دیتا ہے اگر وہ یہ پائے کہ اس گروپ کے اقدامات کا مقصد درج ذیل ہے:
حکومت یا عوام کے کسی طبقے کو مجبور کرنا، ہراساں کرنا یا مرعوب کرنا۔
عوامی تحفظ کے لیے شدید خطرہ پیدا کرنا یا وسیع پیمانے پر شہری زندگی میں خلل ڈالنا ۔
ریاستی اداروں کو دانستہ طور پر غیر مستحکم کرنا یا آئینی عمل (جیسے انتخابات) کو سبوتاژ کرنا۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کا استعمال کرتے ہوئے، محکمہ داخلہ نے اس معاملے کو مہنگائی اور نشستوں کے سیاسی تنازعے سے بدل کر قومی سلامتی اور امن و امان کا مسئلہ بنا دیا ہے۔
دو متضاد نقطہ ہائے نظر
یہ بحث کہ آیا یہ اقدام "حد سے بڑھا ہوا ہے یا نہیں،” مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس نقطہ نظر کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔ ایکشن کمیٹی اور سول سوسائٹی کا نقطہ نظر: "جمہوری اختلاف رائے”
ایکشن کمیٹی، مقامی تاجروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے نقطہ نظر سے، ریاست کے اس اقدام کو ایک جائز حقوق کی تحریک کو کچلنے کے لیے ایک سخت اور غیر جمہوری ہتھکنڈہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا استدلال چند اہم نکات پر مبنی ہے:
معاشی شکایات: اس تحریک کا آغاز زندگی کی بنیادی ضرورتوں یعنی آٹے کی قیمت اور بجلی کے بھاری بلوں پر ہوا تھا، وہ بھی ایک ایسے خطے میں جو بڑے پیمانے پر پن بجلی پیدا کرتا ہے۔ وہ انہیں خالصتاً شہری اور اقتصادی مطالبات سمجھتے ہیں، نہ کہ کوئی بغاوت۔
سیاسی ہتھیار: مبصرین اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتیں اکثر سیاسی مذاکرات سے بچنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا شارٹ کٹ استعمال کرتی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کو "دہشت گرد” قرار دے کر، ریاست نے ہر اس شخص کو مجرم بنا دیا ہے جو ہڑتال میں حصہ لیتا ہے، ان کا پرچم لہراتا ہے، یا سوشل میڈیا پر حمایت پوسٹ کرتا ہے۔
اپوزیشن کو خاموش کرنا: چونکہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات اب مہاجرین کی 12 نشستوں کو چیلنج کرنے تک پہنچ چکے ہیں — ایک ایسا نظام جس پر روایتی سیاسی جماعتیں اقتدار برقرار رکھنے کے لیے انحصار کرتی ہیں — اس لیے کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ پابندی جولائی کے انتخابات سے قبل حکمران اشرافیہ کو تحفظ دینے کے لیے ایک سیاسی اقدام ہے۔
۲۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا نقطہ نظر: "ریاست کی بقا”
آزاد کشمیر حکومت اور پاکستان کے وفاقی سیکیورٹی اداروں کے نقطہ نظر سے، ایکشن کمیٹی کے طریقے "پرامن احتجاج” کی حد کو عبور کر کے "زبردستی اور مفلوج کرنے” کے دائرے میں داخل ہو چکے ہیں۔ پابندی کے لیے ان کے جواز میں شامل ہیں:
معاشی سبوتاژ کا خطرہ: اگرچہ احتجاجی اجتماعات بذات خود غیر مسلح ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست "پیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال” کو زندگی کو زبردستی مفلوج کرنے، کھانے پینے کی اشیاء کی سپلائی روکنے، ہسپتال بند کرنے اور حکومت کے گھٹنے ٹیکنے تک معیشت کو مفلوج کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتی ہے۔
ماضی کے تشدد کا خوف: حکام مئی 2024ء اور اواخر 2025ء کی بدامنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جہاں عوامی احتجاج پرتشدد جھڑپوں، املاک کے نقصان اور شہریوں و پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں پر ختم ہوا تھا۔ ریاست کا استدلال ہے کہ اگر قیادت پرامن رہنے کی اپیل بھی کرے، تب بھی ان کے احتجاج کا نتیجہ عوامی انارکی کی صورت میں نکلتا ہے۔
آئینی عمل میں رکاوٹ: عام انتخابات کے لیے امیدواروں کے لیے کاغذات نامزدگی شروع ہونے کے عین اسی دن مکمل شٹر ڈاؤن نافذ کرنا، ریاست کی نظر میں بیلٹ بکس کے بجائے عوامی دباؤ کے ذریعے آئینی عمل کو یرغمال بنانے کی ایک غیر قانونی کوشش ہے۔
کیا یہ حد سے بڑھا ہوا اقدام ہے؟
یہ اس وقت خطے کی سب سے بڑی اور اہم بحث ہے۔ آزاد مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے، وکلاء، تاجروں اور شہریوں کے ایک غیر مرکزی اتحاد پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق ایک انتہائی سخت اور غیر متناسب اقدام ہے جو پرامن جمہوری گفتگو کے راستے بند کر دیتا ہے۔
ریاست کے لیے، اسے اپنی رٹ برقرار رکھنے، عوامی املاک کی حفاظت کرنے اور یہ یقینی بنانے کے لیے ایک ضروری اور پیشگی اقدام سمجھا جاتا ہے کہ علاقائی انتخابات کسی بڑے سول لاک ڈاؤن کی وجہ سے معطل نہ ہوں۔ آخری تجزیہ یہ ہے کہ مذاکرات کے بجائے قانونی پابندی کا انتخاب کر کے، حکام نے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اس نے بیچ کا راستہ ختم کر دیا ہے، اور ایک احتجاجی تحریک کو ریاست کی رٹ اور گہری عوامی مہم کے درمیان براہِ راست قانونی تصادم میں بدل دیا ہے۔
مستقبل کا ممکنہ منظر نامہ اور عوامی تحریک کی کامیابی کے لیے حکمت عملی
عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی شاندار تاریخ، اس کے موجودہ عزم اور ریاستی کریک ڈاؤن کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ تحریک اپنے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔
۱۔ مستقبل میں کیا ہونے کا امکان ہے؟ (ممکنہ رفتار)
اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ عوامی تحریکیں اور ریاستی کریک ڈاؤن عام طور پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں، تو تین بنیادی رجحانات آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے مستقبل کو شکل دے سکتے ہیں:
الف۔ قلیل مدتی اضافہ اور "عزم کا امتحان” (جون۔جولائی 2026ء)
آنے والی 9 جون کی ہڑتال اور 27 جولائی کے عام انتخابات بڑے فلیش پوائنٹس (اہم مراحل) ہیں:
غیر مرکزی جدوجہد: چونکہ اعلیٰ قیادت کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اس لیے یہ تحریک اب محلوں اور مقامی سطح پر ایک غیر مرکزی مزاحمت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ شٹر ڈاؤن ہڑتالیں اب بھی خود بخود رونما ہو سکتی ہیں کیونکہ مقامی تاجر ایکشن کمیٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
تصادم کا شدید خطرہ: انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت ایکشن کمیٹی پر پابندی اور فوج و نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے بعد، عوامی اجتماعات منعقد کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب ریاستی طاقت سے دیا جائے گا۔ اس سے مقامی سطح پر جھڑپوں اور انٹرنیٹ و مواصلات کی اچانک بندش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ب۔ ریاست کی اسٹریٹجک الجھن
ریاست مقامی معیشت کو تباہ کیے بغیر اور جولائی کے انتخابات کی ساکھ کو مکمل طور پر ختم کیے بغیر مستقل طور پر ایسا سیکیورٹی لاک ڈاؤن برقرار نہیں رکھ سکتی۔ آزاد میڈیا (جیسے روزنامہ ڈان) کا یہ ادراک درست ہے کہ پابندی لگانے سے عوامی شکایات ختم نہیں ہو جاتیں۔ بالآخر، وفاقی اور علاقائی حکومتوں کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی سیاسی راستہ دینا ہو گا، جس کے لیے ممکنہ طور پر غیر جانبدار ثالثوں (جیسے سینئر وکلاء یا ریٹائرڈ ججز) کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔
ج۔ کشمیری سیاست میں ڈھانچہ جاتی تبدیلی
فوری نتائج سے قطع نظر، آزاد کشمیر کا سیاسی تانا بانا اب مستقل طور پر بدل چکا ہے۔ ایکشن کمیٹی نے کامیابی کے ساتھ معاشی بقا (سبسڈی) کو گہرے آئینی سوالات (12 مہاجرین کی نشستیں) سے جوڑ دیا ہے۔ اگر اس تحریک کو عارضی طور پر طاقت سے دبا بھی دیا جائے، تب بھی سیاسی طور پر باشعور، غیر روایتی قیادت کی ایک نئی نسل ابھر چکی ہے جو روایتی سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرتی رہے گی۔
۲۔ عوامی تحریک کے لیے تجویز کردہ لائحہ عمل
اپنی ماضی کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے ریاستی جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے، ایکشن کمیٹی جیسی بڑی سول تحریک اپنی حکمت عملی کو سڑکوں کے تصادم سے ہٹا کر طویل مدتی ادارہ جاتی دباؤ میں تبدیل کر کے فائدہ اٹھا سکتی ہے:
حکمت عملی ۱: قانونی اور آئینی میدان کا رخ کرنا
انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) کا استعمال اس وقت ریاست کا سب سے تیز ہتھیار ہے۔ تحریک کی پہلی ترجیح ایک منظم قانونی جوابی کارروائی ہونی چاہیے۔
پابندی کو چیلنج کرنا: ایکشن کمیٹی کے قانونی ونگز کو فوری طور پر اس پابندی اور حفاظتی حراستوں کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے۔
بیانیے کو تبدیل کرنا: عدالت میں، ایکشن کمیٹی پرامن احتجاج کے لیے اپنے عزم کو باقاعدہ دستاویزی شکل دے سکتی ہے، جس سے ریاست کا یہ قانونی جواز چھن جائے گا کہ یہ گروپ ایک "انارکی پسند یا دہشت گرد” ادارہ ہے۔ قانونی جنگ جیتنے سے ریاست کا انتظامی جواز کمزور پڑ جائے گا۔
حکمت عملی ۲: عدم تشدد کے بنیادی اصول کا تحفظ
ریاست کی موجودہ حکمت عملی اس بات پر منحصر ہے کہ تحریک پرتشدد ہو جائے، جس سے ان کے "دہشت گرد” ہونے کے لیبل کو جواز ملے اور زیادہ سے زیادہ طاقت کے استعمال کا موقع ملے۔
جال سے بچنا: تحریک کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے سختی سے گریز کرنا چاہیے۔
احتجاج کے متبادل ماڈل: اگر "پیہ جام ہڑتالوں” سے فوری گرفتاریاں ہوتی ہیں، تو تحریک کم خطرے والے اور زیادہ دکھائی دینے والے علامتی احتجاج کی طرف منتقل ہو سکتی ہے۔ جیسے علامتی بھوک ہڑتالیں، کالی پٹیاں باندھنے کی مہم، صرف ایک گھنٹے کے لیے مارکیٹوں کی بیک وقت بندش، یا بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہمات جو عوام کو جسمانی نقصان پہنچائے بغیر پیغام کو زندہ رکھ سکیں۔
حکمت عملی ۳: جولائی کے انتخابات کا سیاسی استعمال
چونکہ سیکیورٹی لاک ڈاؤن کے دوران سڑکوں پر 12 مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے نازک آئینی اصلاحات کو حل کرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے تحریک آنے والے انتخابات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔
بیلٹ کی طاقت: انتخابی عمل کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے (جو جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے ریاستی بیانیے کو تقویت دیتا ہے)، ایکشن کمیٹی کا نیٹ ورک مرکزی امیدواروں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
امتحان (لیٹمس ٹیسٹ): وہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ انتخابات میں حصہ لینے والا ہر مقامی امیدوار ایکشن کمیٹی کے معاشی اور ڈھانچہ جاتی مطالبات کی حمایت میں ایک عوامی، قانونی طور پر پابند عہد نامے پر دستخط کرے۔ انکار کرنے والے امیدواروں کا پرامن بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ الیکشن خود بخود ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر پر ایک ریفرنڈم بن جائے گا۔
حکمت عملی ۴: ایک "کمیٹی” سے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی آواز میں تبدیلی
عارضی کمیٹیاں غصے سے بھرے ہجوم کو متحرک کرنے کے لیے تو بہترین ہوتی ہیں، لیکن قیادت کی گرفتاری کی صورت میں وہ کریک ڈاؤن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ طویل مدت تک قائم رہنے کے لیے، ایکشن کمیٹی کو خود کو ادارہ جاتی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ ایک تسلیم شدہ سول رائٹس لیگ، سنڈیکیٹس (تاجروں، وکلاء، لیبر) کے مستقل اتحاد، یا ایک متبادل نئی سیاسی تنظیم کے طور پر منظم ہو کر، یہ تحریک اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ اس کی جدوجہد موجودہ انتخابی دور کے بعد بھی طویل عرصے تک زندہ رہے۔
٭٭٭
Share this content:


