آزاد کشمیر میں عوامی بیداری: اسباب، مضمرات اور مستقبل کا سیاسی افق

تحریر: پروفیسر سکندر خان

آزاد جموں و کشمیر (AJK) اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور غیر معمولی موڑ پر کھڑا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی کال پر ابھرنے والی حالیہ لہر محض ایک عارضی احتجاج نہیں، بلکہ ایک گہری عوامی بیداری (Mass Uprising) کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خطے میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی، دفعہ 144 کا نفاذ، انٹرنیٹ کی بندش اور قیادت کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں بھی اس عوامی مزاحمت کو دبانے میں ناکام رہی ہیں؛ بلکہ اس کے برعکس عوامی نافرمانی (Public Defiance) اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے عزم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ مقالہ اس بحران کے گہرے اسباب، ریاستی اقدامات کے اثرات اور اس تعطل کو ختم کرنے کے ممکنہ سیاسی راستوں کا ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرتا ہے۔

محرکات کا ارتقاء: معاشی مطالبات سے آئینی حقوق تک کا سفر

اس عوامی بیداری کی سب سے بڑی طاقت اس کی منفرد ساخت ہے۔ یہ تحریک روایتی سیاسی جماعتوں کے برعکس ایک غیر مرکزی اتحاد کے طور پر ابھری، جس کی قیادت مقامی تاجروں، وکلاء، ٹرانسپورٹرز اور طلباء کے ہاتھوں میں ہے۔ ارتقائی لحاظ سے اس تحریک کے مطالبات دو واضح حصوں میں منقسم ہیں:

۱۔ اقتصادی ریلیف: تحریک کا آغاز آٹے پر subsidy (سبسڈی) اور بجلی کے بھاری بلوں جیسے خالصتاً عوامی و معاشی مسائل سے ہوا۔ عوام کا موقف ہے کہ چونکہ آزاد کشمیر خود بڑے پیمانے پر سستی پن بجلی پیدا کرتا ہے (جیسے منگلا ڈیم)، اس لیے یہاں کے شہریوں کو پاکستان کے قومی گرڈ کے مہنگے ٹیرف کے بجائے مقامی پیداواری لاگت کے مطابق سستی بجلی فراہم کی جائے۔

۲۔ ڈھانچہ جاتی اصلاحات: وقت کے ساتھ یہ تحریک صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کے خاتمے کا ایک بڑا آئینی مطالبہ سامنے رکھ دیا۔ عوامی کمیٹی کا استدلال ہے کہ ان نشستوں کو پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں مظفرآباد میں اپنی مرضی کی حکومتیں بنانے (پولیٹیکل انجینئرنگ) کے لیے استعمال کرتی ہیں، جس سے مقامی عوامی نمائندگی کا حق مجروح ہوتا ہے۔

ریاستی ردِ عمل اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا نفاذ

ریاستی انتظامیہ اور حکومتِ پاکستان نے اس تحریک کو ایک سیاسی و آئینی حل دینے کے بجائے بنیادی طور پر ایک "امن و امان اور سیکیورٹی کا مسئلہ” قرار دیا۔ اس گورننس ماڈل کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA)، 2014ء کے تحت باقاعدہ پابندی عائد کر دی گئی اور سویلین کمیٹی پر "انارکی پھیلانے” کا الزام لگایا گیا۔

ساتھ ہی، اسلام آباد سے فرنٹیر کانسٹیبلری (FC) اور رینجرز جیسے وفاقی نیم فوجی دستوں کو مظفرآباد، میرپور اور راولاکوٹ جیسے حساس شہروں میں تعینات کیا گیا۔ فورسز کے ذریعے عوامی اجتماعات اور ہڑتالوں کو روکنے کی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں خونریز جھڑپیں ہوئیں، جن میں متعدد شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

عوامی نافرمانی میں اضافے کا نفسیاتی پہلو

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ شدید ریاستی کریک ڈاؤن اور ہلاکتوں کے بعد تحریکیں دب جاتی ہیں، لیکن آزاد کشمیر میں اس کے برعکس عوامی ردِ عمل شدید تر ہو رہا ہے۔ اس عوامی نافرمانی کی تین بنیادی وجوہات ہیں:

خوف کی دیوار کا ٹوٹنا (The Threshold of Fear): جب کسی عوامی تحریک میں جانوں کا زیاں شروع ہو جائے، تو عوام میں موجود خوف کا عنصر زائل ہو جاتا ہے۔ فورسز کی کارروائیوں نے عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اسے ایک بقا کی جدوجہد میں بدل دیا ہے۔

ریاستی بیانیے کی ناکامی: عوام، وکلاء اور تاجروں پر "دہشت گردی” کا لیبل لگانا خود حکومت کے بیانیے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ جب عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ آٹے اور بجلی کا حق مانگنے والے مقامی تاجروں کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے، تو ریاستی بیانیے کی ساکھ مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

غیر مرکزی قیادت کا چیلنج: ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت کی حراست کے بعد یہ تحریک اب گلی محلوں کی سطح پر خودکار (Decentralized) بن چکی ہے۔ کسی ایک مرکزی کمانڈ کا نہ ہونا ریاست کے لیے زیادہ بڑا چیلنج بن چکا ہے، کیونکہ اب حکومت کے پاس کوئی ایک ایسا چہرہ نہیں ہے جسے گرفتار یا مجبور کر کے تحریک کو ختم کیا جا سکے۔

مستقبل کا منظر نامہ: تین ممکنہ راستے

موجودہ سیکیورٹی لاک ڈاؤن کو برقرار رکھنا نہ تو ریاست کے لیے ممکن ہے اور نہ ہی عوام کے لیے۔ جولائی 2026ء میں ہونے والے عام انتخابات سر پر ہیں، اور موجودہ کشیدگی میں انتخابی عمل کا انعقاد ایک سوالیہ نشان ہے۔ مستقبل کے حوالے سے اب تین واضح راستے سامنے آ سکتے ہیں:

الف۔ انارکی اور شدت کا راستہ: اگر حکومت نے سیاسی مذاکرات کے بجائے صرف طاقت کے استعمال پر اصرار جاری رکھا، تو یہ تحریک ایک پرامن سویلین نافرمانی سے نکل کر مستقل سیکیورٹی بحران میں تبدیل ہو جائے گی، جس سے معیشت مکمل تباہ اور نوجوانوں میں بیگانگی بڑھے گی۔

ب۔ سیاسی اور آئینی حل: دیر یا سویر، ریاست کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انتظامی پابندیاں عوامی شکایات کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ بالآخر حکومت کو غیر جانبدار ثالثوں (جیسے ججز یا معتبر وکلاء) کے ذریعے جیلوں میں بند قیادت سے مذاکرات کا راستہ کھولنا پڑے گا۔

ج۔ متبادل سیاسی قوت کی تشکیل: اگر ریاستی ہٹ دھرمی برقرار رہتی ہے، تو اس تحریک کا سب سے منطقی اور پائیدار انجام ایک نئی، متبادل سیاسی جماعت کی تشکیل ہو سکتا ہے۔ ایکشن کمیٹی اپنے اس وسیع عوامی نیٹ ورک کو ایک منظم سیاسی قوت میں تبدیل کر کے خود انتخابی میدان میں اتر سکتی ہے۔ یہ آپشن کشمیر کی مروجہ سیاست کا جمود توڑنے اور اسٹیبلشمنٹ کی پولیٹیکل انجینئرنگ (خصوصاً 12 نشستوں کے نظام) کو براہِ راست اسمبلی کے اندر جا کر چیلنج کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تحریک کے لیے تجویز کردہ لائحہ عمل

تحریک کی کامیابی اور عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایکشن کمیٹی کو اپنی حکمت عملی کو سڑکوں کے تصادم سے ہٹا کر طویل مدتی ادارہ جاتی دباؤ میں تبدیل کرنا چاہیے:

عدم تشدد پر سختی سے کاربند رہنا: ریاست کا پورا کریک ڈاؤن اس امید پر قائم ہے کہ تحریک پرتشدد ہو تاکہ وہ اپنے اقدامات کو درست ثابت کر سکے۔ تحریک کو کسی بھی قیمت پر فورسز کے ساتھ تصادم یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے بچنا ہوگا۔ اگر پہیہ جام پر فوری گرفتاریاں ہوتی ہیں، تو علامتی احتجاج (جیسے بلیک بینڈ مہم یا ہڑتالی اوقات کی تبدیلی) کا سہارا لیا جائے۔

قانونی محاذ کو فعال کرنا: تحریک کے قانونی ونگ کو فوری طور پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت لگائی گئی پابندی اور حفاظتی حراستوں کو آزاد کشمیر کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے، تاکہ ریاست کے پاس موجود قانونی کور کو ختم کیا جا سکے۔

عام انتخابات کو بطور ریفرنڈم استعمال کرنا: انتخابات کو روکنے کی کوشش کرنے کے بجائے، تحریک کو اسے ایک سیاسی ہتھیار بنانا چاہیے۔ ایکشن کمیٹی تمام حلقوں کے امیدواروں کے سامنے یہ شرط رکھے کہ وہ عوامی مطالبات کے چارٹر پر دستخط کریں۔ دستخط نہ کرنے والے امیدواروں کا پرامن سیاسی بائیکاٹ کر کے انتخابات کو تحریک کے حق میں ایک عوامی ریفرنڈم میں بدلا جا سکتا ہے۔

انتخابی متبادل اور سیاسی جماعت کا قیام: عارضی کمیٹیاں طویل المدتی ریاستی کریک ڈاؤن کے سامنے بکھر سکتی ہیں۔ اس جدوجہد کو مستقل اور قانونی تحفظ دینے کے لیے ایکشن کمیٹی کو ایک باقاعدہ سیاسی جماعت (Political Party) میں تبدیل ہو جانا چاہیے۔ اپنے وسیع عوامی اور سویلین نیٹ ورک کو ایک منظم سیاسی پلیٹ فارم پر لا کر، تحریک بیلٹ بکس کے ذریعے روایتی سیاسی اجارہ داری کو ختم کر سکتی ہے اور مقتدر حلقوں کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے عوامی طاقت سے شکست دے سکتی ہے۔

حاصلِ کلام

آزاد کشمیر کا یہ بحران طاقت کے بل بوتے پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تحریک اب کشمیری عوام کے وقار اور معاشی حقوق کی علامت بن چکی ہے۔ ریاستی مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر عوامی مطالبات کا احترام کریں، نیم فوجی دستوں کو واپس بلائیں اور فوری مذاکرات کا آغاز کریں۔ دوسری طرف، عوامی تحریک کی قیادت کو جذبات کے بجائے اسٹریٹجک حکمت عملی اور عدم تشدد کے ہتھیار سے اپنی اس تاریخی جدوجہد کو کامیابی کی طرف لے جانا ہوگا۔

٭٭٭

Share this content: