پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پرہڑتال ساتویں روز بھی جاری ہے جبکہجموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست وزارتِ داخلہ نے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے گذشتہ رات کوہالہ سے مظفر آباد جانے والے راستے کو پتھر اور درختوں کے تنوں رکھ کر کردیا تھا جسے پولیس اور انتظامیہ نے کلیر کروا لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مارکیٹیں اور دوکانیں ساتویں روز بھی بند ہیں اور مظفر آباد میں پھلوں اور سبزیوں اور دیگر اشیائے خردونوش کی سپلائی نہیں ہو رہی۔ فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف انے والے تمام راستے کلیر ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔
انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خرودنوش کی دوکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دوکان کو سیل کردیا ہے۔
منیر قریشی کے مطابق جمعے کی شام طارق آباد اور سبزی منڈی میں دوکانیں کھلی رہیں جبکہ دودہ دہی کی دوکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی دوکان د کو زبردستی اپنی دوکانیں کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔
کمشنر مظفرآباد نے دعویٰ کیا کہ جیسے کرونا کے دنوں میں لوگ اپنی دوکانوں کے شٹر نیچے کیے ہوتے تھے اور گاہک اتا تو شٹر اوپر کرکے گاہک کو چیزیں فراہم کرتے تھے، وہی صورت حال مظفر آباد کے کچھ علاقوں میں بھی ہے۔
منیر قریشی کا مزید کہنا تھا کہ نیلم ویلی سے کالعدم تنظیم کے کارکنان مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے تھے تاہم وہاں موجود قانون نافذ کرنے کے ادارے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی وجہ سے مظاہرین واپس اٹھمقام کی طرف لوٹ گئے۔
مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد پانچ سو کے قریب تھی اور انھوں نے مظفر اباد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی جسے طاقت کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔
دوسری جانب پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ عید گاہ کے علاوہ پتن کے قریب بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان جمع ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دریک عید گاہ کے قریب سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولاکوٹ انے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرلیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمت عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔
کمشنر پونچھ کا مزید کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مخلتف مقامات پر چھاپے مار کر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی وزارت داخلہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکرٹری کی طرف سے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی ایک دو روز میں ان سفارشات کے بارے میں فیصلہ کرکے وفاقی حکومت کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی۔
Share this content:


