راولاکوٹ / کوٹلی / مظفرآباد /کاشگل خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) میں جاری شدید تناؤ اور سکیورٹی لاک ڈاؤن کے دوران زمینی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ مختلف اضلاع میں کرفیو نافذ کر کے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم رہنماؤں اور ان کے حامی تاجروں کو چن چن کر نشانہ بنانے، ان کے کاروباری مراکز سیل کرنے اور املاک کو مسمار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں عوامی غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
شوکت نواز میر کی دکان کے تالے توڑنے اور ممنوعہ لٹریچر کا متنازع سرکاری دعویٰ
ذرائع کے مطابق، مظفرآباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ممتاز رہنما شوکت نواز میر کی کتابوں کی دکان (بک اسٹال) پر چھاپہ مارا گیا اور کارروائی کے دوران دکان کے تالے توڑ دیے گئے۔
متعلقہ حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دکان کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہاں سے ممنوعہ نوعیت کا لٹریچر برآمد ہوا ہے۔
شوکت نواز میر اور ان کے ساتھیوں نے انتظامیہ کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
راولاکوٹ: عمر نذیر کی بیکری میں لوٹ مار کے شواہد اور فورسز پر الزام
راولاکوٹ شہر میں نافذ کرفیو کے دوران ایکشن کمیٹی کے فعال ممبر سردار عمر نذیر کی ‘نیشنل بیکری’ کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
مقامی ذرائع اور ویڈیو شواہد کے مطابق، شہر میں کرفیو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیکری میں توڑ پھوڑ کی گئی اور سامان کی لوٹ مار کی گئی، جس میں مبینہ طور پر پاکستانی فورسز ملوث پائی گئی ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے نہتے عوام کی دکانوں سے اشیائے خوردونوش، نقدی اور جیولری شاپس سے قیمتی زیورات لوٹے جا رہے ہیں۔
کوٹلی: نامور تاجروں کے کاروبار سیل، گھروں میں توڑ پھوڑ تاحال جاری
دوسری جانب، ضلع کوٹلی اور اس کے گردونواح میں مقامی مخبروں کی نشاندہی پر سکیورٹی فورسز اور پولیس نے رات گئے بدترین چھاپے مارے۔ تحریک میں سرگرمی دکھانے والے نامور تاجروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے ان کے کاروباری مراکز پر تالے لگا دیے گئے ہیں، جن کی تصدیق خود رہنماؤں نے کی ہے:
ملک یعقوب کشمیری کی برتنوں کی بڑی دکان کو انتظامیہ نے سیل کر دیا ہے۔
ظفر ملک کی جیولری شاپ کو باقاعدہ سیل کر کے بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، مختلف اضلاع میں تحریک کی معاونت کرنے والے عام دکانداروں کے مکانات اور دکانوں میں گھس کر تاحال توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری ہے۔
"حکمرانو! آپ نے قتل عام کیا، ہم پھر بھی پُرامن ہیں” — عوامی ایکشن کمیٹی کا پیغام
ان جابرانہ اقدامات اور معاشی ناکہ بندی پر سخت ترین ردِعمل دیتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین اور مقتدر حلقوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
"حکمرانو! آپ نے ہمارے پرامن مظاہرین کا قتل عام کیا، ہم پُرامن رہے۔ آپ نے ہم پر دہشت گردی اور ممنوعہ لٹریچر جیسے گھناؤنے اور من گھڑت الزامات لگائے، ہم پھر بھی پُرامن رہے۔ جس طرح آپ نے برسوں سے ہمارے وسائل لوٹ کر یہاں کے عوام کو محرومیوں کی دلدل میں دھکیلا، آج ویسے ہی آپ کی فورسز لوگوں کی جان و املاک کے تحفظ کے بجائے شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ایسے انتقامی اقدامات سے معاشی و سیاسی مسائل کا حل ممکن نہیں، سیل شدہ دکانیں فوری کھولی جائیں۔”
مطالبات پر عملدرآمد تک تحریک جاری رکھنے کا عزم
سماجی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سخت ترین کریک ڈاؤن، چھاپوں، گرفتاریوں اور کاروبار سیل کیے جانے کے باوجود آزاد کشمیر کے عوام اپنے معاشی و سیاسی مطالبات پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ تسلیم شدہ مطالبات (آٹے اور بجلی پر ریلیف) پر مکمل عملدرآمد اور خطے سے رینجرز اور دیگر نیم فوجی دستوں (فورسز) کے فوری انخلاء کے بغیر کوئی بھی شہری اپنے گھروں کو واپس نہیں جائے گا۔
Share this content:


