مصنف: زیف سید
ناول کا نام: رتی
تبصرہ: فرحان طارق
زیف سید کا تازہ ناول "رتی” تاریخ اور فکشن کے امتزاج سے قائد اعظم اور رتی کی زندگی کے کم جانے پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے۔
مذہب، خاندان اور جائیداد کو چھوڑ کر جناح کا ہاتھ تھامنے والی رتی، وہی بمبئی کا پھول جو اپنی ہی آگ میں جھلس گیا۔
کچھ ناول ایسے ہوتے ہیں جنہیں آپ جلد مکمل کرنے کا تجسس رکھتے ہیں۔ زیف سید کا ناول “رتی” جب فروری 2026 میں شائع ہوا اور اس کے بارے میں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا تو اسے پڑھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ دماغ کے دریچوں سے نکلتی ایک نئی سوچ نے جنم لیا کہ آخر وہ رتی تھی کون، جس کے بارے میں عموماً پاکستان کے نصاب میں زیادہ جاننے کو نہیں ملتا۔
ناول کے مصنف زیف سید ہیں جو اس وقت انڈیپینڈنٹ کے مدیر ہیں اور ماضی میں بھی متعدد کتابیں لکھ چکے ہیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والا ناول “رتی” ان کا ایک منفرد کام ہے۔ یہ ناول 282 صفحات پر مشتمل ہے۔ فکشن اور تاریخی واقعات پر مبنی یہ ناول رتی اور قائد اعظم کی محبت کی داستان بیان کرتا ہے اور ماضی کی بہت سی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔
ناول کے پہلے باب کا عنوان “گہری کالی رات” ہے۔
اس میں 15 اگست 1947 کے اس دن کا تذکرہ ہے جب برصغیر تقسیم ہو کر پاکستان وجود میں آ چکا ہوتا ہے اور اس روز تقریبِ حلف برداری منعقد ہونی ہے۔ مگر اسی دن وہ لمحات بھی آتے ہیں جب قائد اعظم غمگین نظر آتے ہیں اور ماضی میں کھوئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
سفید شیروانی اور سلیٹی جناح کیپ میں ملبوس قائد اعظم ڈائس پر تن کر کھڑے ہیں مگر ان کا بدن ہلکا سا بائیں طرف جھکا ہوا ہے، جیسے اندرونی توازن کا نظام اندر سے کھسک گیا ہو۔ اس روز کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ایک خصوصی پرواز کے ذریعے موسیقاروں کو قائد اعظم کی ہدایت پر ہندوستان سے اس تقریب میں لایا جاتا ہے۔
ساز و دھن کے بجتے ہی قائد اعظم 20 اپریل 1918 کی گزری شام کی یادوں میں محو ہو جاتے ہیں۔ وہ دن جب رتی کی 18 ویں سالگرہ تھی اور بمبئی کے تاج محل ہوٹل میں رتی کی سالگرہ کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد تھی۔ رتی نے خاندان والوں کو بتائے بغیر محمد علی کو اس تقریب میں مدعو کر دیا تھا۔
محمد علی کے ہال روم میں داخل ہوتے ہی ایک کونے میں بیٹھے رتی کے والد سر ڈنشا مانیک جی پٹیٹ ششدر رہ جاتے ہیں، مگر محمد علی کی توجہ رتی کی طرف ہے۔ اس باب میں ناول نگار رتی کے حسن کو بھی بیان کرتا ہے۔
قائد اعظم زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ قائد اعظم ماضی کی یادوں سے نکل کر واپس حال میں آ جاتے ہیں۔
ناول کے دوسرے باب میں جہاں رتی کے والد سر ڈنشا مانیک جی پٹیٹ اور قائد اعظم کی دوستی کا ذکر ہے، وہیں قائد اعظم کی جانب سے ڈنشا مانیک سے رتی کا ہاتھ مانگنے کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
یہ اپریل 1916 کی شام ہے۔ سر ڈنشا مانیک جی کے شیٹو محل کا لان ہے۔ قائد اعظم اور سر ڈنشا چائے کی میز پر بیٹھے ہیں۔ شام کی دھوپ کی آخری کرنیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ محمد علی اور سر ڈنشا کے درمیان ہندوستان کے سیاسی اور سماجی مستقبل پر گفتگو ہو رہی ہے۔
قائد اعظم سر ڈنشا سے سوال کرتے ہیں:
“شادی بیاہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں بین المذاہب شادیاں لرزتے سماجی ڈھانچے کو سہارا دے سکتی ہیں؟”
سر ڈنشا جواب دیتے ہیں کہ اس قسم کے جوڑے اعلیٰ نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آگے چل کر وہ اپنے خاندان میں اس قسم کی شادی کی ایک مثال بھی پیش کرتے ہیں۔
ان تمام لمحات میں محمد علی اپنے اظہار کے لیے بے تاب ہیں اور مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔ آخر کار وہ سر ڈنشا سے کہہ دیتے ہیں:
“میں آپ کی بیٹی رتن بائی کا ہاتھ اپنے لیے مانگنا چاہتا ہوں۔”
سر ڈنشا منجمد ہو کر رہ جاتے ہیں اور کہتے ہیں:
“میں آپ کا مطلب سمجھ نہیں پایا۔”
محمد علی جواب دیتے ہیں:
“میں رتن سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کی جو شرائط ہوں، میں پوری کرنے کو تیار ہوں۔”
سر ڈنشا غصے سے سرخ ہو جاتے ہیں اور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کے گھٹنے کی ٹکر سے میز پر رکھے برتن لرز اٹھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
“جناح! عمر میں تم میرے برابر ہو اور میری نابالغ بیٹی سے شادی کی بات کر رہے ہو۔ ہوش میں ہو؟”
محمد علی کہتے ہیں کہ رتی میں ایسی پختگی اور ذہانت ہے جو اس کی عمر سے کہیں زیادہ ہے اور وہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہے۔
سر ڈنشا مزید غصے میں آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں:
“میری بیٹی کے بارے میں ایسی بات کرنا بند کرو اور میرے گھر سے نکل جاؤ۔”
بالآخر جناح کو شیٹو محل سے نکال دیا جاتا ہے۔ یاد رہے محمد علی اکثر اپنی چھٹیاں گزارنے اپنے دوست کے شیٹو محل آیا کرتے تھے۔
ناول نگار آگے آنے والے ابواب میں جہاں رتی اور جناح کی محبت اور زندگی کے واقعات بیان کرتا ہے، وہیں 20 فروری 1900 کو سر ڈنشا کے ہاں رتی کی پیدائش کی خوشی میں منعقدہ تقریب کا بھی ذکر کرتا ہے۔
ناول میں رتی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسے گھڑ سواری کا شوق تھا اور اس نے اعلیٰ نسل کے گھوڑے پال رکھے تھے۔ رتی کے بمبئی کے سینٹ جوزف کانونٹ کالج سے لے کر فرانس تک کے تعلیمی سفر کا بھی ذکر ملتا ہے۔
جب رتی کو فرانس بھیجنے کا معاملہ آیا تو یہ سوال اٹھا کہ جو لڑکی ماں باپ کے بغیر ایک رات بھی نہیں رہی، اسے بیرون ملک کیسے بھیجا جائے۔ آخر کار رتی کی چچی نے اس کی ذمہ داری لی اور اس کے ساتھ فرانس روانہ ہوئیں۔
وہ لکھتی ہیں کہ فرانس میں رتی سیاست پر بھی توجہ دیتی تھی اور اسے ناول پڑھنے کا بھی شوق تھا۔
ناول میں تاج محل ہوٹل کا ذکر بھی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جمشید جی ٹاٹا نے نوآبادیاتی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کے طور پر اس ہوٹل کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ وہ ہوٹل تھا جہاں ہندوستانی اور غیر ملکی بلا تفریق آ سکتے تھے۔ 1898 میں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور 1903 میں مکمل ہوئی۔
ناول کے درمیانی حصے میں کاجل کا ذکر آتا ہے جو رتی کی پالتو بلی تھی۔ رتی کانگریس کے جلسوں میں بھی جاتی تھی اور محمد علی کے سامراج کو للکارنے والے اندازِ بیان کو بہت پسند کرتی تھی۔
سر ڈنشا نے جناح پر بیٹی کو ورغلانے کا مقدمہ کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ رتی کے اٹھارہ سال مکمل ہونے تک جناح اس سے نہیں مل سکتے۔ دو سال کے انتظار کے بعد تاج محل ہوٹل میں رتی کی اٹھارویں سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی اور اسی تقریب میں جناح رتی کی دعوت پر آئے تھے۔
ناول میں رتی کے مریم بننے تک کا سفر بھی بیان کیا گیا ہے۔ پارسی اور مسلم اخبارات کے درمیان شدید بحث چھڑ گئی اور پارسی برادری نے سر ڈنشا کو الٹی میٹم دیا کہ رتی کو جائیداد سے محروم کیا جائے ورنہ خاندان کو آتش کدے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آخر کار سر ڈنشا کو شکست ہوئی اور پارسی پنچایت کا فیصلہ غالب آ گیا۔
رتی نے عدالت میں جج سے کہا:
“میں نے جناح کو اغوا کیا ہے۔”
جب رتی گھر چھوڑ کر جناح کے پاس گئی تو وہ گھر سے کوئی زیور نہیں لے گئی، صرف اپنی پالتو بلی کاجل کو ساتھ لے گئی۔ نکاح کے وقت جناح خاندان اسے انگوٹھی پہنانا بھی بھول گیا تھا۔
ناول میں رتی اور جناح کی بیٹی دینا کا ذکر بھی ملتا ہے۔ جناح اسے صوفیہ کہتے تھے جبکہ رتی اسے دینا کہہ کر پکارتی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ رتی اور جناح کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔ ایک واقعہ دہلی میں پیش آیا جب رتی کی بلی کاجل ہوٹل میں گم ہو گئی۔ رتی اس کے بغیر دہلی چھوڑنے پر آمادہ نہ تھی جبکہ جناح اگلے روز عدالت میں پیشی کے باعث بمبئی واپس چلے گئے۔ یہ واقعہ شاید ان کے تعلقات میں سرد مہری کا آغاز تھا۔
بعد ازاں رتی تاج محل ہوٹل میں ایک کمرہ لے کر اکیلی رہنے لگی۔ وہ اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ تنہائی میں رہتی تھی۔ اس دوران جناح کبھی کبھار اسے دیکھنے آتے تھے مگر رفتہ رفتہ یہ ملاقاتیں بھی کم ہو گئیں۔
آخرکار رتی بیرون ملک پیرس چلی گئی مگر وہاں اس کی صحت مزید بگڑ گئی۔ جناح کو جب اس کی بیماری کا علم ہوا تو وہ پیرس پہنچے اور ایک ماہ تک اس کے قریب رہے۔
مگر ایک دن رتی اچانک اپنی ماں کے ساتھ بمبئی واپس چلی گئی۔
یہ 20 فروری 1929 کا دن تھا — رتی کی 29 ویں سالگرہ۔ اس روز رتی نے گولیاں کھا لیں۔ ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی کوشش کی مگر بالآخر رتی کا سورج غروب ہو گیا۔
بمبئی میں تدفین کے وقت جناح وہاں موجود تھے۔ رتی کے خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ جناح غم سے نڈھال تھے اور وہ ہر جمعرات رتی کی قبر پر حاضری دیا کرتے تھے۔
ناول کے آخر میں تاج محل ہوٹل کا ذکر آتا ہے جسے 2008 میں عسکریت پسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔ ناول نگار کے مطابق وہ صرف ایک ہوٹل کو نہیں بلکہ تاریخ کو جلانے کی کوشش تھی۔
٭٭٭
Share this content:


