مظفرآباد: لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج جاری، عید پر دھرنے کی دھمکی

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً 3500 لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز نے 6 فروری کو اپنے احتجاج کا آغاز کیا تھا جبکہ 6 مارچ کو انہوں نے سنٹرل پریس کلب کے سامنے سیکریٹریٹ جانے والی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے کر اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم اب تک ان کے مطالبات پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بھی یہ محنت کش خواتین احتجاج کرتی رہیں۔ پیر 17 مارچ کو ایک مرتبہ پھر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے سنٹرل پریس کلب سے سیکریٹریٹ جانے والی شاہراہ پر علامتی دھرنا دیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔

احتجاج میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ اپنے بچوں کے ساتھ عید کے روز بھی احتجاج جاری رکھیں گی۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطابق وہ دہائیوں سے مختلف مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جن میں پینشن کی باقاعدہ ادائیگی، سروس اسٹرکچر کی منظوری، سروس اپ گریڈیشن، ملازمت کا تحفظ اور مستقل حیثیت شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی حقوق نہ ہونے کی وجہ سے ان کی پیشہ ورانہ خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب عوامی حکومت کے دعوے دار سرکار نے آنکھ موند لی ہیں اور وہ اس معاملے پر کوئی سنجیدگی کا اظہار نہیں کر رہی۔

Share this content: