کشمیر میں تحریکِ مزاحمت تاریخ کے نئے موڑ پر،خواتین بھی سڑکوں پر نکل آئیں

راولاکوٹ / ہجیرہ / کاشگل نیوز رپورٹ

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں حقوق کی بحالی اور ریاستی جبر کے خلاف جاری تحریک ایک لازوال اور تاریخی شکل اختیار کر چکی ہے۔ خطے میں جاری بدترین کشیدگی کے دوران اب مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی مردوں کے شانہ بشانہ میدانِ عمل میں اتر آئی ہیں، جس نے اس تحریک کو چند افراد یا تنظیموں کے بجائے ایک حقیقی ‘عوامی بیداری’ میں تبدیل کر دیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، 11 جون کو منڈھول ہجیرہ کے مقام پر ایک غیر معمولی اور تاریخی منظر دیکھا گیا جب خطے کی بیٹیوں اور خواتین نے چادر اور چار دیواری سے نکل کر سکیورٹی فورسز کا راستہ روک لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، خواتین نے بغیر کسی خوف و خطر کے بھاری مسلح دستوں کے سامنے کھڑے ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کی یہ جدوجہد صرف مردوں تک محدود نہیں، بلکہ اب یہ پوری قوم کی بقا کا سوال بن چکی ہے۔ خواتین کی اس جرات مندانہ شمولیت نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ جب قوم پر ظلم حد سے بڑھ جائے تو مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی صفِ اول میں کھڑی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب، راولاکوٹ میں جاری مرکزی دھرنا اس وقت ایک ‘عوامی سمندر’ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ دھرنے میں عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ہجوم نے ثابت کر دیا ہے کہ جموں کشمیر کا ہر فرد اب مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔ نوجوان، بزرگ، خواتین اور معصوم بچے سب ایک ہی مطالبے، ایک ہی پرچم اور ایک ہی مقصد کے لیے چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ دھرنے کے شرکاء کا عزم دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ اب یہ آواز کسی جابرانہ ہتھکنڈے سے دبائی نہیں جا سکتی۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین اور دھرنے کے شرکاء نے حالیہ دنوں میں ہونے والے جانی نقصان اور کریک ڈاؤن پر حکمرانوں کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ:

"تم کتنے لوگوں کو مارو گے؟ کتنے گھروں کو اجاڑو گے اور کتنی ماؤں کی گودیں ویران کرو گے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی طاقت اور گولی کا رعب ہمیشہ عارضی ہوتا ہے جبکہ حق کی آواز مستقل رہتی ہے۔ تحریک کے شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا، بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے حوصلوں کو مزید جلا بخشے گا۔”

آزاد کشمیر کے غیور عوام نے حالیہ سکیورٹی لاک ڈاؤن، کرفیو، شٹ ڈاؤن اور فورسز کی کارروائیوں کے سامنے سر جھکانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قوم اب اپنے معاشی حقوق، اپنی عزتِ نفس اور اپنے محفوظ مستقبل کے لیے کھڑی ہو چکی ہے، اور دنیا کی کوئی بھی طاقت یا تشدد کا نظام اس فولادی عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔ دھرنے کے شرکاء نے مطالبات کی مکمل منظوری اور فورسز کے انخلاء تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

Share this content: