پاکستان زیر انتظام کشمیر میں مکمل لاک ڈائون،سینکڑوں لوگ لاپتہ

رپورٹ: فرحان طارق

حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہیہ جام شٹر ڈاون ہڑتال چھٹے روز بھی جاری رہی۔

بینک تعلیمی ادارے کاروباری مراکز مکمل بند ہیں جبکہ دارالحکومت مظفرآباد میں حکومت کا وجود ہی نہیں۔شہر کے چوکوں چوراوں میں ایف سی پی سی اسلامآباد پولیس اور مقامی پولیس کے اہکار تعینات ہیں۔

چھ دن سے خطے میں مکمل جب کہ اس قبل تین دن سے جزوی لاک ڈاؤن ہے مجموعی طور پر تالہ بند ہڑتال کو نو دن ہو چکے ہیں۔

یہ خطے میں پہلی دفعہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پہیہ جام چھٹے روز بھی جاری ہے اس قبل سال 2024 اور 2025 میں بھی جیک کی جانب سے متعدد تالہ بند ہڑتالیں ہوئی مگر وہ پانچ روز کے بعد اختتام پذیر ہو گئیں تھیں۔

خطے میں دس روز سے انٹرنیٹ سروس مکمل بند ہے تاہم گزشتہ شب سے ضلع راولاکوٹ میں موبائل سروس بھی سست روی کا شکار ہے۔

جون 14 کی صبح تین بجے فوسزز کی جانب سے راولاکوٹ دریک عیدگاہ کے مقام پر شرکاۓ دھرنا پر کریک ڈائون کیا گیا جس باعث وہ منتشر ہو گئے مگر احتجاج میں شریک ایک شہری نے نام نہ ظاہر کرنے کی صورت پر بتایا کہ کریک ڈائون کے بعد مساجد میں اعلانات ہونے شروع ہوۓ کہ لوگ واپس اپنے قافلوں کی جانب آ جائیں اور ابھی صبح سات بجے لوگون کی ایک بڑی تعداد جمع ہو چکی ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کریک ڈائون میں ایک شہری ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوۓ ہیں جبکہ جیک کے کور ممبر نے ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔

کور ممبر جیک عابد شاہین نے بات کرتے ہوۓ کہا کہ ہمارا اجلاس جاری ہے کچھ دیر تک اپنا اعلامیہ جاری کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس دفعہ لانگ مارچ کی قیادت بچے اور عورتیں کریں گے ہمارے سینکڑوں لوگ لا پتہ ہیں ہمارے ساتھیوں پر راولاکوٹ میں تشدد کیا جا رہا ہے۔

Share this content: