عراق میں اس ہفتے حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور منگل کے روز بغداد کے سخت سکیورٹی والے گرین زون میں امریکی سفارتخانہ ایک بڑے حملے کا نشانہ بنا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایک روز قبل اسی علاقے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک لگژری ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
خبر رساں اداروں روئیٹرز اور اے ایف پی کے مطابق امریکی سفارتخانے پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔
عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ حالیہ سلسلے میں سب سے شدید تھا۔
سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق تین ڈرون اور چار راکٹ سفارتخانے کی جانب داغے گئے، جن میں سے کم از کم ایک سفارتخانے کے اندر گرا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے تین ڈرون سفارتخانے کی سمت جاتے دیکھے، جن میں سے دو مار گرائے گئے جبکہ ایک احاطے میں ٹکرایا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حملے سے تقریباً چھ گھنٹے قبل امریکی سفارتخانے نے عراق میں موجود امریکی شہریوں کے لیے ایک نیا سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔
الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک مسلح گروہ بار بار بغداد کے مرکزی انٹرنیشنل زون (گرین زون) کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔
گزشتہ چند دنوں سے عراق میں امریکی مفادات اور حساس سکیورٹی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
گرین زون جیسے سخت حفاظتی علاقے پر حملے سکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
یہ واقعات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عراقی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں کہ وہ حملہ آور گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
Share this content:


