ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کا دعویٰ

فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔

پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق ’اس نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کے ذریعے ’چار اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں امریکی فضائی اڈے پر F-35 لڑاکا جیٹ ہینگرز اور آرمی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ شامل ہیں۔

ابھی تک امریکی ذرائع نے اس حملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل خاتم الانبیاء کے ہیڈ کوارٹر نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ایرانی حملے پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے مشترکہ طور پر کیے تھے۔

ایرانی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے ڈرون حملوں کی لہر کے ساتھ ’امریکی اڈوں اور امریکی پانچویں بیڑے کے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔‘

ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق، فوج نے ان حملوں کو جنوبی ایران کے باشندوں کے خلاف امریکی ’ہراساں کیے جانے‘ کے بعد ’جوابی اقدام‘ قرار دیا۔

ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے سے منسلک سمجھے جانے والے خبر رساں اداروں نے اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کی اطلاع دی ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں جدید امریکی ایف-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگرز کو خیبر شکن ٹھوس ایندھن والے میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے کہا کہ ’علاقے میں امریکی فضائی اور بحری اڈوں پر 21 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘

خبر رساں ادارے نے ان حملوں اور ان کے بعد ہونے والے دھماکوں سے منسوب ویڈیوز بھی شائع کی ہیں تاہم بی بی سی فی الحال آزادانہ طور پر ان تصاویر کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔

Share this content: