اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ آزاد کشمیر کی صورتحال پر متحرک، مظاہرین پر تشدد پر اظہارتشویش

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) میں جاری شدید ترین کشیدگی، کرفیو اور جانی نقصان کی گونج اب بین الاقوامی سطح پر، بالخصوص اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے (US Embassy) میں بھی سنی جا رہی ہے۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے خطے کی نازک صورتحال پر گہری مانیٹرنگ اور بیانات سامنے آنے کے بعد سیاسی و عوامی حلقوں میں ایک نیا رخ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، امریکی سفیسی نے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال کو مکمل طور پر مانیٹر کر رہا ہے۔

سفارت خانے کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں احتجاجی مظاہرین پر ہونے والے مبینہ تشدد اور جانی نقصان پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

بیان میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام خطے میں بڑے اور وسیع احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں، اور ریاستی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں عام عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

امریکی سفارت خانے کے اس موقف اور خطے میں جاری کشیدگی پر عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور مقامی کارکنان کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغامات اور عوامی بیانات میں عسکری قیادت کو سخت ترین الفاظ میں للکارا گیا ہے۔

کارکنان کا کہنا ہے کہ: "یہ صرف اسلام آباد ایمبیسی کا عام بیان نہیں، بلکہ یہ امریکی حکام کی مرضی اور واضح اشارے سے ہوا ہے۔ عسکری اور ریاستی مقتدرہ انتظار کرے؛ اگر انہیں عوام کی طرف سے دی گئی عزت راس نہیں آئی، تو اب وہ اپنے کیے کا بندوبست کریں۔”

برطانوی پارلیمنٹیرینز کے خط اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بعد اب امریکی سفارت خانے کا یہ مبینہ بیانیہ کشمیر تحریک کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، راولاکوٹ اور کوٹلی میں سڑکوں پر بہنے والے خون (جیسا کہ تصویر "image_0fcc3b.jpg” میں سڑکوں پر موجود خون کے ہولناک مناظر سے عیاں ہے) نے سیکیورٹی فورسز اور حکومت پاکستان کے خلاف عوامی غصے کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باوجود اب یہ سفارتی بیانات واضح کر رہے ہیں کہ راولاکوٹ اور مظفرآباد کی اصل صورتحال اب دنیا سے چھپائی نہیں جا سکتی۔ سرکاری سطح پر امریکی سفارت خانے کے اس مبینہ بیان پر تاحال کوئی باضابطہ سفارتی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

Share this content: