مظفرآباد: خواتین و بچوں کے امن مارچ پر پولیس کا کریک ڈائون، ، متعدد خواتین گرفتار

مظفرآباد/کاشگل نیوز

پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر ضلع مظفرآباد محلہ پولیس لائن کی خواتین، بچیوں اور بچوں کی جانب سے نکالے گئے امن مارچ پر نلوچھی پل کے مقام پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد خواتین کو حراست میں لے لیا۔

عینی شاہدین کے مطابق خواتین، بچیاں اور بچے امن کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے شاہراہ پر مارچ کر رہے تھے۔ شرکاء نے ہاتھوں میں مختلف پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر امن، انسانی حقوق اور تشدد کے خاتمے سے متعلق مطالبات درج تھے۔

اطلاعات کے مطابق مارچ پرامن انداز میں نلوچھی پل تک جاری رہا، تاہم وہاں پہنچنے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد خواتین کو گرفتار کر لیا۔ بعض اطلاعات میں خواتین کے ساتھ دھکم پیل اور تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

گرفتار ہونے والی ان خواتین کو مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی جبکہ مقامی شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے خواتین اور بچوں کے امن مارچ کے خلاف کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

گرفتار ہونے والی ان خواتین کو مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دو درجن کے قریب خواتین اور بچے نلوچھی چوک میں جمع ہوئے اور مظاہرہ کرنا شروع کردیا جس پر پولیس نے انھیں پکڑ کر گاڑیوں میں ڈالا اور تھانوں میں منتقل کردیا۔

کشمیر میں پولیس کے سربراہ ملک لیاقت اعوان نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’حراست میں لی جانے والی خواتین ایک ایجنڈے کے تحت جمع ہوئی تھیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کرنے اور حکومت مخالف نعرے لگانے کے الزام میں گرفتار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جہاں پر خواتین جمع ہوئیں وہاں پر ضلعی انتظامیہ کے افسر بھی موجود تھے اور ان خواتین نے ان کو بتایا کہ وہ بازار اور دوکانیں نہ کھلنے کی وجہ سے شدید پرشان ہیں اور وہ ان دکانوں کے کھلنے کے حق میں مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں۔‘

آئی جی کا کہنا تھا کہ ’کچھ دیر تو ان خواتین نے دوکانیں کھولنے کے حق میں نعرے لگائے اور پھر کچھ دیر کے بعد انھوں نے مبینہ طور پر حکومت مخالف اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل ہے کہ اب وہ اپنے مطابات منوانے کے لیے خواتین اور بچوں کو سامنے لائیں گے اور ان خواتین کا مظاہرہ اسی ایجنڈے کی ایک کڑی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چونکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اس لیے ان خواتین نے قانون کی سخت خلاف ورزی کی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے قانوں شکنی کی ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ ’اس وقت شہر کی متعدد بازار اور دوکانیں کھلی ہیں اور لوگ وہاں سے روزمرہ کی اشیا خرید رہے ہیں۔‘

مظاہرے میں شریک خواتین میں سے ایک نے بی بی سی کی نامہ نگار تابندہ کوکب کو بتایا ہم سب محلے کی خواتین اور بچیاں تھیں جو دکانوں کی بندش اور حکومت کی جانب سے ہڑتال ختم نہ کروائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہی تھیں۔

انھوں نے بتایا کے پولیس نے آ کر ان خواتین اور منتشر ہونے کو کہا اور ہوائی فائر کیے۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ کوئی خاتون پولیس اہلکار نہیں تھی اور مرد اہلکار ہی خواتین کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک نویں کلاس کی طالبہ بھی شامل ہے۔

ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ ان کا گھر مظاہرے کے مقام کے قریب ہے اور ان کے بھائی جو پیشے سے استاد ہیں بال کٹوانے جا رہے تھے۔ ’بھائی کو پتا چلا کہ ہمارے 80 سالہ والد مظاہرہ دیکھنے کے لیے کھڑے تھے تو پولیس اہلکاروں نے انھیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ والد کو دیکھنے گئے تو پولیس انھیں بھی گرفتار کے کے لے گئی ہے۔ فی الحال بھائی سے کوئی رابطہ نہیں۔‘

مقامی صدر تھانہ مظفرآباد کے اہلکار سے گرفتار مظاہرین کی تفصیل جاننے کے لیے فون کیا تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

Share this content: