مشرق وسطیٰ کے ممالک پر ایران کے شدید نوعیت کے حملے جاری ہیں ۔ کویت اور قطر کی توانائی تنصیبات پر شدیدحملوں کے بعد متعدد یونٹس بند کردیئے گئے ہیں ۔
حملوں کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی برآمدات میں 17 فیصد کمی آگئی ہے جس سے قطر کو سالانہ 20 ارب ڈالر کا نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کویت پیٹرولیم کارپوریشن کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح نیشنل پیٹرولیم کمپنی کی مینا الاحمدی ریفائنری کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد ریفائنری کے متعدد پیداواری یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے مطابق فائر اور ایمرجنسی ٹیموں نے فوری طور پر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
احتیاطی اقدام کے طور پر، ریفائنری کے متعدد یونٹس کو بند کر دیا گیا ہے اور تمام کارکنوں اور سائٹ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب قطر کے وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ راس لفان تنصیب پر حملے کے نتیجے میں قطر کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدی صلاحیت اگلے پانچ سالوں میں 17 فیصد کم ہو جائے گی، جس سے ملک کو سالانہ آمدنی میں 20 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔
صنعتی پروسیسنگ یونٹ ٹرین کا استعمال کرتے ہوئے قدرتی گیس کو بہت کم درجہ حرارت پر ٹھنڈا کر کے ایل این جی تیار کی جاتی ہے۔ قطری وزیر کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے پلانٹ کی 14 ٹرینوں میں سے دو کو نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے مطابق اس راس لفان پر حملہ بدھ کو اس کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کا جواب تھا۔
سنگاپور میں مقیم کلین فیول مارکیٹ انٹیلی جنس فراہم کرنے والی فرم ہائی سائٹ کے چیف کمرشل افسر سیاران رو بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ پانچ سال کا عرصہ صرف مرمت کے لیے نہیں بلکہ یہ ’ایک مکمل تعمیر نو ہے۔‘
ایشیائی ممالک خاص طور پر جاپان، جنوبی کوریا، انڈیا اور چین قطری ایل این جی پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ میں، اٹلی اور بیلجیم بھی اس کے بڑے بڑے گاہکوں میں شامل ہیں۔ یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں روسی درآمدات سے منہ موڑنے کے بعد یورپ کا مشرق وسطیٰ کی گیس پر تیزی سے انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
قطر قدرتی گیس کی عالمی منڈی کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک ہے۔
رو کہتے ہیں کہ ’خوف کئی سالوں نہیں تو کم از کم مہینوں تک مارکیٹ میں سرایت کر سکتا ہے۔‘
’اس سے ایل این جی کی درآمد کے حوالے سے حکومتوں کی سوچ بدلے گی۔‘
ایل این جی توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے جو لوگوں کے گھروں کو گرم کرنے، کھانا پکانے اور یہاں تک کہ جہازوں اور فیکٹریوں کو بجلی فراہم کرنے کے بھی کام آتی ہے۔ یہ کھیتی باڑی کے کیے کھاد بنانے کے عمل میں استعمال ہوتی ہے۔
Share this content:


