امریکہ نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور مختلف ممالک سے ایک نئے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک مراسلے میں ممالک کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت اس اہم بحری راستے پر جہاز رانی کی آزادی بحال کریں۔
امریکہ،اسرائیل اورایران کے درمیان جاری کشیدگی اور دو ماہ سے جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے۔
یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ بندش کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
امریکی مراسلے کے مطابق مجوزہ اتحاد، جسے “میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ” کا نام دیا گیا ہے، درج ذیل امور پر توجہ دے گا:
بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانا
رکن ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ
سفارتی روابط کو مضبوط رکھنا
پابندیوں کے نفاذ میں تعاون
امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس اتحاد کے ذریعے نہ صرف بحری سلامتی بہتر ہوگی بلکہ عالمی معیشت کو درپیش خطرات بھی کم کیے جا سکیں گے۔
فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کے اتحاد کی حمایت کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس پر عملی پیش رفت جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہے۔
ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ جب تک اس پر خطرات موجود ہیں اور حملے جاری رہیں گے، آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش نہ صرف تیل کی قیمتوں کو بے قابو کر سکتی ہے بلکہ اس سے عالمی مہنگائی، تجارتی لاگت اور سپلائی چین شدید متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
Share this content:


