امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کریں اور اس جنگ کی وجوہات پیش کریں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔
1973 کے قانون کے تحت صدر کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد یا تو اسے ختم کرنا ہو گا یا پھر مسلح افواج کی سلامتی کے لیے ’فوری فوجی ضرورت‘ کی بنیاد پر کانگریس سے اجازت یا 30 دن کی توسیع طلب کرنا ہو گی۔
Share this content:


