ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔
ایرانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ طور پر آمدورفت سے متعلق ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے مرکزی فوجی کمان کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس کو نشانہ بنایا جائے گا، ’خصوصاً امریکی فوج کو۔‘
ایرانی فوج کے میجر جنرل علی عبداللّہی نے کہا ہے کہ ’ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے اور اس سے محفوظ آمدورفت کا عمل ہر صورت ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں ہونا چاہیے۔‘
یہ بیان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے نشر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کے لیے ’پراجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی و بحری طیارے، مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والے بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں۔
Share this content:

