بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں عیدالفطر کے پہلے روز دو الگ مگر یکساں نوعیت کے احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے، جن میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی عید کے پہلے روز احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے میں شریک لاپتہ افراد کے لواحقین نے کہا کہ خوشیوں کے اس دن احتجاج کا مقصد دنیا کو اپنے دکھ اور تکلیف سے آگاہ کرنا ہے، تاکہ ذمہ داران کو احساس ہو اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے پیارے واپس نہیں آتے، ان کی عید ادھوری رہتی ہے۔
اسی روز بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے جاری مہم کے تحت ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی، جس میں تنظیم کی گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بی وائی سی رہنما گزشتہ ایک سال سے قید ہیں، اور یہ ان کی تیسری عید ہے جو وہ جیل میں گزار رہے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق ان رہنماؤں نے جبری گمشدہ افراد کے لیے آواز اٹھائی، جس کے باعث وہ آج بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
دونوں احتجاجی مظاہروں میں مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، سماجی حلقوں اور جبری گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کریں، شفاف اقدامات کریں اور بی وائی سی رہنماؤں سمیت تمام لاپتہ افراد کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ناانصافی کے خلاف خاموشی اختیار کرنا ظلم کو مزید مضبوط کرتا ہے، اس لیے عوام کو اپنی آواز بلند کرتے رہنا چاہیے۔
Share this content:


