نطنز پر حملے کے بعد ایران کا دیمونا پر میزائل حملہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے حساس جوہری مقامات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق جنوبی اسرائیل کے شہر Dimona پر میزائل حملہ، ایران کے Natanz Nuclear Facility پر ہونے والے حملے کا ردعمل تھا۔ دیمونا، صحرائے نیگیو میں واقع ہے جہاں اسرائیل کی ایک اہم اور غیر اعلانیہ جوہری تنصیب موجود سمجھی جاتی ہے۔

ایران کی جوہری توانائی تنظیم کا کہنا ہے کہ نطنز افزودگی کمپلیکس کو صبح کے وقت نشانہ بنایا گیا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی میزائل دیمونا میں ایک عمارت پر براہ راست آ گرا، جس کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس سے قبل انہوں نے Tehran میں ایک مبینہ جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا، جو بقول ان کے ایرانی بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام سے منسلک تھی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ تنصیب Malek Ashtar University of Technology کے اندر قائم تھی، جسے ایرانی وزارت دفاع کے ماتحت ایک حساس ادارہ قرار دیا جاتا ہے اور اس پر بین الاقوامی پابندیاں بھی عائد ہیں۔

خطے میں جوہری تنصیبات پر براہ راست حملوں کے اس تبادلے نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کسی وسیع تر تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Share this content: