عراق میں ایران اور امریکہ کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے والے دو الگ الگ حملوں میں کم از کم 21 جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے مغربی علاقے میں ایک امریکی فضائی حملے میں اس کے 15 جنگجو ہلاک ہو گئے۔
پی ایم ایف کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اس کے کمانڈر سعد البیجی بھی شامل ہیں، جن کی آخری رسومات بغداد میں ادا کی جا رہی ہیں۔
پی ایم ایف مختلف مسلح گروہوں کا اتحاد ہے، جن میں اکثریت ایران کے حمایت یافتہ دھڑوں کی ہے، اور اسے اب باضابطہ طور پر عراقی سکیورٹی فورسز کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب پی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر میں ایک اہم اجلاس جاری تھا اور متعدد سینیئر کمانڈر موجود تھے۔
دوسری جانب شمالی عراق کے شہر اربیل میں کرد فورس کے ایک اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 6 کرد جنگجو ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔
سکیورٹی اور کرد ذرائع کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ حملہ کس جانب سے کیا گیا، اور نہ ہی کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ دونوں حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عراق میں ایران نواز گروہوں، امریکی مفادات اور کرد فورسز کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں سے خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی صورتحال پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
Share this content:


