نوآبادیاتی ورثہ اور عوامی خدمت کا تقاضا

تحریر: قیوم راجہ

یہ دعویٰ کہ برطانیہ برصغیر میں جمہوریت کے فروغ یا عوامی خدمت کے جذبے کے تحت آیا تھا، تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کی آمد کا بنیادی مقصد معاشی مفادات کا حصول اور سیاسی کنٹرول تھا۔ اسی مقصد کے تحت جو انتظامی ڈھانچہ قائم کیا گیا، وہ عوام کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ ان پر حکمرانی کے لیے تشکیل دیا گیا۔ سرکاری اہلکاروں کو خدمت گزار نہیں بلکہ بااختیار افسر کے طور پر تربیت دی گئی، جن کا کام عوام سے تعاون لینا نہیں بلکہ ان سے اطاعت حاصل کرنا تھا۔

آزادی کے تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی اس نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کے اثرات مکمل طور پر زائل نہیں ہو سکے۔ بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں آج بھی کئی سرکاری اداروں کا رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق ابھی تک مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوا۔ اکثر شہری خود کو ایک ایسے نظام میں پاتے ہیں جہاں انہیں اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے غیر ضروری پیچیدگیوں، تاخیر اور رسمی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گو پاکستان اور آزاد کشمیر کچھ افسران کے ساتھ بھی مجھے واسطہ پڑا مگر وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ دیانتداری کی وجہ سے انکے اپنے حقوق بھی متاثر ہو تے ہیں جن میں ترقی میں رکاوٹ اور انتقامی تبادلے عام ہتھکنڈے ہوتے ہیں۔

اس تناظر میں اگر ایک عوام دوست نظام کی مثال دیکھی جائے تو نیدرلینڈز قابلِ ذکر ہے۔ ایک نسبتاً چھوٹا مگر مؤثر فلاحی ریاستی نظام رکھنے والا یہ ملک اس بات کی عملی مثال پیش کرتا ہے کہ عوامی خدمت محض پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ رویوں میں بھی جھلکتی ہے۔

ڈچ سرکاری دفاتر میں شہریوں کے ساتھ برتاؤ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست عوام کے لیے ہے۔ اہلکار نہ صرف مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ گفتگو کے اختتام پر یہ سوال بھی کرتے ہیں: “Heeft u nog een vraag?” یعنی “کیا آپ کا کوئی اور سوال ہے؟” یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک طرزِ فکر کی نمائندگی کرتا ہے،ایک ایسا طرزِ فکر جس میں شہری کی تسلی اور سہولت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ خوش اخلاقی سے رخصت کرنا اس عمل کا فطری حصہ ہے۔

یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک حقیقی عوامی خدمت اور ایک جابرانہ نظام کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔ عوامی خدمت گزار وہ ہے جس کا اختیار شہری کی رہنمائی، سہولت اور خدمت کے لیے استعمال ہو۔ اس کے برعکس، جب اختیار بغیر جوابدہی کے استعمال ہو اور نظام مسائل کے حل کے بجائے رکاوٹیں پیدا کرے تو وہ عوام کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ نوآبادیاتی ورثے کے حامل معاشرے اس بنیادی سوال کا سامنا کریں۔ کیا ریاستی ادارے اب بھی ماضی کے طرزِ حکمرانی کے اسیر رہیں گے، یا وہ ایک ایسے نظام کی طرف پیش قدمی کریں گے جہاں شہری واقعی مرکز میں ہو؟ اس کا جواب محض پالیسی اصلاحات میں نہیں بلکہ سوچ اور رویوں کی تبدیلی میں پوشیدہ ہے—کنٹرول سے خدمت کی طرف، اختیار سے جوابدہی کی طرف، اور روایت سے اصلاح کی طرف۔

٭٭٭

Share this content: