دہشت گردی اور اس کے ’معاون نظام‘ کو بھارت کچل دے گا، نریندرمودی

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائیوں، جسے بھارت نے "آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا تھا، کا جمعرات کے روز ایک سال مکمل ہونے پر کہا، ہم دہشت گردی کو شکست دینے اور اس کے معاون نظام کو تباہ کرنے کے اپنے عزم پر پہلے کی طرح ثابت قدم ہیں۔‘‘

انہوں نے اپنے بیان میں کہا، بھارت نے ان لوگوں کو بھرپور جواب دیا، جنہوں نے پہلگام میں بے گناہ بھارتیوں پر حملہ کرنے کی جرأت کی۔ پوری قوم ہماری افواج کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔‘‘

دوسری جانب انڈین عسکری حکام نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’آپریشن سندور کسی انجام کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ یہ ایک نئے سٹریٹجک عزم کے آغاز کی علامت ہے‘ جبکہ پاکستان حکام نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی، ڈیٹرینس قائم کیا اور جنگ کا زاویہ بدل دیا۔‘

دونوں ممالک کی افواج کے نمائندوں نے اس موقع پر طنز کا سہارا بھی لیا۔ جہاں ایک جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈین آرمی کو ’سیاست زدہ‘ اور انڈین میڈیا کی جانب سے ’اچھی خاصی تفریح‘ فراہم کرنے کی بات کی تو وہیں آرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے کہا کہ ’ہم اس پر کیا کہہ سکتے ہیں۔ ہم نے اس عمل کو ایک تفریح کے طور پر لیا۔‘

انڈین عسکری حکام نے اس موقع پر پاکستان کے چین اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی بات کی۔

پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ائیر وائس مارشل طارق غازی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’معرکہ حق میں انڈیا کے چار رفال طیاروں سمیت آٹھ طیارے مار گرائے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سکور 8-0 ہے۔‘

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’معرکہ حق میں ایک ایس یو 30، ایک مگ 29، ایک معراج طیارہ اور ایک انتہائی مہنگا ملٹی رول ڈرون بھی مار گرایا گیا۔‘

دوسری جانب انڈین ایئر مارشل اودھیش کمار بھارتی نے کہا کہ ’آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے 11 ایئر فیلڈز کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ 13 طیارے مار گرائے گئے۔ یہ سب کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ انڈیا کے کسی شہری یا فوجی انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔‘

Share this content: