امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی آپریشن کو ’کچھ وقت کے لیے‘ روکا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایک دن قبل شروع ہونے والا ’پراجیکٹ فریڈم‘ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی جانب ’بڑی پیش رفت‘ ہونے کے باعث ’باہمی اتفاق‘ سے روکا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ’پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر‘ کیا ہے، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
سماجی رابطے کے اپنے آن لائن پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے مزید لکھا کہ ایران کے خلاف مہم میں غیر معمولی عسکری کامیابی ملی۔ اور پراجیکٹ فریڈم قلیل مدت کے لیے معطل کیا جائے گا کہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اسے فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے میں ’مسلسل ناکامیوں‘ کے بعد ٹرمپ ’پیچھے ہٹ گئے۔‘
امریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت آیا جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا حملہ، آپریشن ایپک فیوری، اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکا ہے۔
Share this content:

