انڈین عدالت نے ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا دے دی

انڈین دارالحکومت نئی دلّی کی ایک عدالت نے کئی برس سے قید کشمیر کے کالعدم تنظیم ’دخترانِ ملت‘ کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی اور اُن کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون یو اے پی اے کے تحت ’ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور سازش رچانے‘ کے الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔

2017 سے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں قید آسیہ کو عمر قید جبکہ صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو 30 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے ایک سماعت کے دوران دلی کی خصوصی عدالت میں جج چندر جیت سنگھ کے سامنے انڈیا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے 65 سالہ آسیہ اندرابی، 59 سالہ ناہیدہ اور 41 سالہ صوفی فہمیدہ کو عمر قید کی سزا دینے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد عدالت نے 24 مارچ کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔ این آئی اے کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ’اس (عمر قید) سے کم کوئی بھی سزا قانون کی بالادستی پر عوام کے اعتبار کو کم کرے گی۔‘

تاہم آسیہ اور ان کی ساتھیوں کے وکیل شارق اقبال نے ایجنسی کی طرف سے عائد الزامات کے حق میں پیش کیے گئے ثبوتوں کو ناکافی قرار دیا۔ سابقہ سماعت میں وکیل صفائی نے کہا تھا: ’یہ خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنے گھر سے 800 کلومیٹر دور تقریباً 8 سال سے قید میں ہیں۔‘

وکیل نے کہا تھا کہ تینوں خواتین کئی عارضوں میں بھی مبتلا ہیں۔

واضح رہے کہ آسیہ اندرابی نے ہوم سائنس میں گریجویشن اور عربی ادب میں ایم اے کیا ہے۔ ناہیدہ زولوجی اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتی ہیں جبکہ صوفی فہمیدہ گریجویٹ ہیں۔

این آئی اے کی چارج شیٹ میں آسیہ پر الزام ہے کہ اُن کے کالعدم مسلح گروپ لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے ساتھ مراسم تھے اور وہ اپنی تقریروں میں تشدد کو فروغ دیتی تھیں۔

اس سلسلے میں ایجنسی نے آسیہ کا ایک پرانا انٹرویو بھی پیش کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان عسکری گروپوں میں شامل ہوں گے اور ہماری عسکری جدوجہد مضبوط ہو جائے گی۔ بندوق ہمارے مقصد کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن ہمیں سیاسی جدوجہد کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔‘

ایجنسی کے مطابق گذشتہ برسوں کے دوران مختلف پولیس تھانوں میں آسیہ کے خلاف 33، صوفی فہمیدہ کے خلاف 9 اور ناہیدہ نسرین کے خلاف 5 مقدمے درج کیے گئے ہیں۔

یوں تو دختران کی سربراہ آسیہ اندرابی کشمیر میں نفاذِ شریعت اور خلافت کے قیام کی حامی تھیں، تاہم انھوں نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیرکو ’پاکستان کا نیچرل حصہ‘ قرار دے کر کشمیری تحریکِ مزاحمت کے پاکستان نواز حلقے کی حمایت کی۔

وہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی پرچم لہراتی تھیں اور پاکستانی حکومت پر زور دیتی تھیں کہ وہ کشمیریوں کی تحریک کو بھرپور تعاون فراہم کرے۔

Share this content: