بھارت میں مغربی بنگال انتخابات میں تاریخی کامیابی کے ساتھ مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک کی 28 میں سے 20 ریاستوں میں اقتدار حاصل کر لیا ہے۔
اسے وزیر اعظم مودی کی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں اپنی پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج عوام کے جمہوریت، کارکردگی پر مبنی سیاست اور استحکام پر اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت بحرانوں، مثلاﹰ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، کے دوران بھی متحد ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ نتائج اس ریاست (مغربی بنگال) میں بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں اسے ماضی میں مشکلات کا سامنا رہا تھا۔ انہوں نے کہا، ”بنگال کی تقدیر میں ایک نیا باب شامل ہو گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریکارڈ کامیابی نسلوں سے کارکنوں کی محنت اور جدوجہد کے بغیر ممکن نہ تھی۔‘‘
بی جے پی نے ایک ایسے ریاستی الیکشن میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے جو طویل عرصے سے ان کے بڑے سیاسی حریف کے قبضے میں تھی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ویب سائٹ کے مطابق بی جے پی کو 294 میں سے 207 اسمبلی نشستیں ملی ہیں۔
یہ کامیابی مودی کو 2029 کے عام انتخابات سے قبل مضبوط پوزیشن فراہم کر سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ بے روزگاری کی بلند شرح اور امریکہ کے ساتھ زیر التوا تجارتی معاہدے سمیت معاشی اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نریندر مودی کی شخصیت، منظم جماعتی ڈھانچہ، وسائل کی برتری اور معاشی ترقی کے ساتھ مضبوط ہندو بیانیہ بی جے پی کی کامیابی کے اہم عوامل ہیں۔
بی جے پی نے اس سے پہلے کبھی مغربی بنگال میں حکومت نہیں کی اور وہ برسوں سے آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت کو ہٹانے کی کوشش کرتی رہی تھی، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کر رہی تھیں۔ وہ مودی کے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتی ہیں اور 2011 سے اس سیاسی طور پر اہم ریاست پر حکمرانی کر رہی تھیں۔ انہوں نے ریاست میں 34 سال تک حکومت کرنے والی بائیں بازو کی حکومت کو ہرایا تھا۔
Share this content:


