اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے جنوبی لبنان میں قائم ’سکیورٹی زون‘ کو مزید وسعت دینے کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے دراندازی کے خطرے کو مکمل طور پر روکنا اور اینٹی ٹینک میزائلوں کی فائرنگ کو سرحد سے مزید دور دھکیلنا ہے۔
نیتن یاہو نے یہ واضح نہیں کیا کہ توسیع موجودہ زون کے اندر ہوگی یا اس سے باہر، تاہم اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا تھا کہ سکیورٹی زون کو دریائے لیطانی تک پھیلا دیا جائے گا۔ ان کے مطابق جب تک حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل کو لاحق خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، کسی لبنانی شہری کو اپنے گھر واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بیان لبنان میں اسرائیلی عزائم کے حوالے سے اب تک کا سب سے سخت موقف قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا تقریباً دسواں حصہ اسرائیلی کنٹرول میں آ سکتا ہے۔
یہ صورتحال 1985 سے 2000 تک جنوبی لبنان پر اسرائیلی قبضے کی یاد تازہ کرتی ہے، جب اسرائیل نے اسی نوعیت کا ’بفر زون‘ قائم کر رکھا تھا۔ اس وقت بھی اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، اور آئی ڈی ایف کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں حزب اللہ کے کئی ارکان مارے گئے ہیں جبکہ ایک اور اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ لبنان میں تازہ پیش قدمی کے بعد ہلاک ہونے والا پانچواں اسرائیلی فوجی ہے۔
اسی دوران جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفِل) کی پوزیشن کے قریب ایک پروجیکٹائل گرنے سے ایک امن فوجی ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ فورس کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ پروجیکٹائل کہاں سے فائر کیا گیا تھا، اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ یونیفِل نے کہا کہ ’’امن کے مقصد کی خدمت کرتے ہوئے کسی کو بھی اپنی جان نہیں گنوانی چاہیے۔‘‘
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے بھی اتوار کے روز جنوبی لبنان میں ایک ایمبولینس پر حملے میں طبی عملے کے ایک رکن کی ہلاکت کی مذمت کی ہے، اور اس کا الزام خطے میں ’’اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں‘‘ پر عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق طبی سازوسامان کے ایک گودام کو بھی حملے میں تباہ کر دیا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیلی پیش قدمی، اور شہری و امن اہلکاروں کی ہلاکتوں نے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے کہ سرحدی جھڑپیں کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔
Share this content:


