امریکہ کا تہرن کے ساتھ بات چیت کا دعویٰ،ایران کی تردید

امریکہ کے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران میں امریکی آپریشن ’کامیابی سے جاری‘ ہے۔

بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک 11,000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ’زیادہ دباؤ ڈالنے کی صلاحیت‘ ملی ہے اور ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتیں مفلوج ہو گئی ہیں۔‘

انھوں نے دعوی کیا کہ ’ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے تقریباً 90 فیصد کم ہو گئے ہیں۔ امریکی کارروائی نے ایران کی بحریہ کو بھی ’تباہ‘ کر دیا ہے، جس میں 150 سے زیادہ جہاز تباہ کیے گئے، جن میں ان کے سب سے بڑے جہازوں کا 92 فیصد شامل ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر طے شدہ حملوں کو 10 روز کے لیے ’مؤخر‘ کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایسا موقع ہے کہ ایرانی حکومت امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرے۔‘

لیویٹ نے مزید کہا کہ اگر ایران اس موقع کو رد کرتا ہے تو امریکی فوج ’تیار ہے‘۔

انھوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ’ہر ممکنہ آپشن‘ اختیار کررے گا اور ’ایرانی حکومت سنگین قیمت ادا کرے گی۔‘

لیویٹ نے ان رپورٹس پر بات کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی حکام امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق، ایرانی حکومت کی ’عوامی دکھاوا‘ اور میڈیا کی ’غلط رپورٹنگ‘ کے باوجود، امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’نجی سطح پر ہونے والی بات چیت عوامی سطح پر دکھائی جانے والی صورتحال سے مختلف ہوتی ہے۔‘

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل نیٹ ورک پر ایک پیغام پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’ان اکتیس دنوں میں ہم نے امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’امریکہ کی طرف سے تجاویز کے کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے، جو پاکستان سمیت کچھ ثالثوں کے ذریعے ہمیں پہنچائی گئی ہیں۔‘

یہ پیغام وائٹ ہاؤس کے ترجمان اور ان سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بات کے بعد جاری کیا گیا۔

بقائی نے لکھا کہ ’ہمارا موقف بالکل واضح ہے۔ اب ایسی صورت حال میں جب امریکی فوجی جارحیت اور جارحیت شدت کے ساتھ جاری ہے، ہم ایرانی قوم کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر کوششیں اور توانائیاں وقف کر رہے ہیں۔۔۔ ہم نے سابقہ ​​تجربات کو اپنے گوشت اور خون کے ساتھ محسوس کیا ہے، اور ہم سفارت کاری کی دھوکہ دہی کو نہیں بھولیں گے جو دو سال سے بھی کم عرصے میں کی گئی۔‘

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے آج کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں اور جاری ہیں۔

لیویٹ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے حکام جن کے ساتھ امریکہ بات کر رہا ہے وہ پچھلے لیڈروں کے مقابلے میں ’پردے کے پیچھے زیادہ معقول‘ لگتے ہیں۔

Share this content: