پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایرانی ادارے فارس نیوز کے مطابق ایران میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے آبنائے ہرمز میں گزرنے والی ٹریفک پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
فارس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیشن کے ایک رکن نے اس منصوبے کی منظوری کی تصدیق کی ہے جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے سے بھی روکا جائے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں کے تحت وہ دیگر ممالک بھی پابندی کا سامنا کریں گے جنھوں نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں حصہ لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نئے ٹول نظام کا اعلان ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایران اسے عمان کے ساتھ تعاون میں نافذ کرے گا۔
دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل عام طور پر اس اہم بحری گزرگاہ سے ہوتی ہے جو ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے۔
تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحری معلومات فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے مطابق اس آبی گُزر گاہ سے آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی آ چکی ہے۔
Share this content:


