علی وزیر کے خلاف ایف آئی آرز: سندھ ہائیکورٹ نے حکومت و پولیس حکام کو نوٹس جاری کر دیے

پاکستان کے سندھ ہائی کورٹ کی سرکٹ بینچ نے سابق ایم این اے اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سندھ حکومت اور متعلقہ پولیس حکام کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

درخواست میں دادو پولیس کی جانب سے درج کی گئی دو ایف آئی آرز کو چیلنج کیا گیا ہے۔

آئینی بینچ، جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس ریاضت علی سحر پر مشتمل، نے آئینی پٹیشن نمبر D-607/2026 کی سماعت کے بعد تمام فریقین کو 22 اپریل تک اپنی وضاحتیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری داخلہ سندھ، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد ڈویژن، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل سندھ، ایس ایس پی دادو سمیت دادو کے اے اور بی سیکشن تھانوں کے ایس ایچ اوز کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ امداد حیدر سولنگی کے مطابق عدالت میں دو الگ درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں دونوں ایف آئی آرز کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آرز کے اندراج کا وقت خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ یہ مقدمات رہائی کے چند گھنٹوں کے اندر درج کیے گئے۔

واضح رہے کہ علی وزیر کو 19 مارچ سے عدالتی ریمانڈ پر دادو جیل میں رکھا گیا تھا، جبکہ رہائی کے فوراً بعد ان کے خلاف نئی ایف آئی آرز درج ہونے پر قانونی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

یہ کیس صوبے میں سیاسی مقدمات، پولیس اختیارات اور شہری آزادیوں سے متعلق ایک اہم قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے، جس پر آئندہ سماعت میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

Share this content: