2 اپریل 2026 کو عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کی قیمت 109.37 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو تاریخی تناظر میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔
ماہرین کے مطابق 1947 میں تیل کی قیمتیں آج کی طرح روزانہ کھلی مارکیٹ میں طے نہیں ہوتی تھیں بلکہ بڑی بین الاقوامی کمپنیوں اور حکومتوں کے کنٹرول میں رہتی تھیں۔ اس دور میں خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً 2.50 سے 3.00 ڈالر فی بیرل تھی۔
اسی سال پاکستان میں ڈالر کی قیمت تقریباً 3 روپے 31 پیسے تھی، جس کے حساب سے فی بیرل تیل کی قیمت لگ بھگ 10 روپے بنتی تھی۔ اس کے برعکس آج 2026 میں پاکستان میں فی بیرل تیل کی قیمت تقریباً 24 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جو مہنگائی اور عالمی حالات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1970 کی دہائی میں تیل کے بحران کی بڑی وجہ عرب-اسرائیل جنگ بنی تھی، جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آج ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات، عالمی طلب میں اضافہ اور سپلائی چین کے مسائل تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو مستقبل میں تیل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف عالمی معیشت بلکہ پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
Share this content:


